خطبات محمود (جلد 11) — Page 417
خطبات محمود ۴۱۷ ۵۵ سال ۱۹۴۸ء قومی اتحاد اور تمدنی ترقی کا بہت بڑا گر فرموده ۲۰ / جولائی ۱۹۲۸ء بمقام ڈلہوزی) تشهد تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے تمدن کا ایک بہت بڑا گر بیان فرمایا ہے جس کو مد نظر رکھ کر قومی اتحاد اور تمدنی ترقی کے بہت سے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔بہت سی دنیا میں ایسی باتیں ہوتی ہیں جو بظا ہر چھوٹی ہوتی ہیں لیکن ان کے نتائج بہت بڑے نکلتے ہیں۔دیکھنے والا ان کو اس نقطہ نگاہ سے دیکھتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں کیا ہیں اور اپنی ذات میں ان کو چھوٹا سمجھ کر ان کی طرف سے بے توجہی کرتا ہے۔مگر بسا اوقات نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم کی قوم یا ملک کا ملک یہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا برباد ہو جاتی ہے۔تاریخوں میں ایک واقعہ آتا ہے میں نہیں جانتا کہاں تک سچا ہے لیکن لکھا ہے بغداد کی خلافت کی تباہی کا موجب وہی واقعہ ہوا۔کہتے ہیں دو بد معاش تھے انہوں نے کسی جگہ کباب بکتے دیکھ کر مشورہ کیا آؤ آج کباب کھائیں اور مفت کھا ئیں۔ان دنوں شیعہ سنی جھگڑوں کا زور تھا انہوں نے منصوبہ یہ بنایا کہ چلتے چلتے آپس میں لڑ پڑیں۔ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگ جائیں۔ایک اس طرح کلام کرے کہ وہ سنی ہے اور دوسرا اس طرح کہ شیعہ ہے۔جب شور و شر پڑ جائے گا اور لوگ لڑنے لگ جائیں گے تو ہم کباب اٹھا کر بھاگ جائیں گے۔انہوں نے کباب فروش کی دکان کے پاس پہنچ کر اسی طرح کیا۔اس بازار میں شیعہ بھی تھے اور سنی بھی کچھ ایک کی امداد کے لئے آگئے کچھ دوسرے کی امداد کے لئے پہلے ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے پھر مار کٹائی شروع ہو گئی وہ کباب لے کر چلتے بنے مگر اس واقعہ کے بعد جگہ جگہ لڑائیاں اور خونریزیاں شروع ہو گئیں۔اس پر لوگوں نے ترکوں کو لکھا کہ یہاں بہت بد امنی پیدا ہو گئی ہے تم آجاؤ۔ترک جو اس وقت تک اسلام نہ لائے تھے حملہ آور