خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 389

خطبات محمود ۳۸۹ سال ۶۱۹۲۸ اور لڑانے والے ہیں۔جو ان کی رہنمائی کا دعوی کرنے والے ہیں وہی سب سے زیادہ ایک دوسرے کا گلا پکڑنے والے ہیں۔اور ان کی حالت وہی ہے کہ مژده باد اے مرگ عینی آپ ہی بیمار ہے بجائے اس کے کہ وہ قومی لیڈر اور راہ نما جن کا کام تھا کہ اس بھنور میں پھنسی ہوئی قوم کی کشتی کو نکالتے اور اس راہ سے بھولے ہوئے کارواں کو راہ راست پر ڈالتے ان کے اوقات لڑائی جھگڑے اور دنگہ و فساد میں خرچ ہو رہے ہیں۔حالت تو مسلمانوں کی ایسی ابتر ہو چکی ہے کہ اگر اس وقت کروڑوں آدمی بھی ان کو بچانے کی کوشش کرتے تو بھی تھوڑے تھے مگر جو تھوڑے سے بچانے کا دم بھرتے ہیں ان میں سے بھی ہر ایک کی کوشش یہ ہے کہ دوسرے کا گلا گھونٹوں۔ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے دس میں آدمی ڈوب رہے ہوں تو ان کو بچانے کے لئے بھی دس بیس کی ضرورت ہوگی مگر میتر صرف تین چار ہوں اور وہ بھی ایک دوسرے کا گلا پکڑ کر اس بات پر لڑ رہے ہوں کہ میں کو دوں یا تم کو دو۔نتیجہ یہ ہو گا نہ یہ کو دے گا نہ وہ اور ڈوبنے والے ڈوب جائیں گے۔اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے مسلمانوں کو توجہ دلائی تھی کہ آخر وہ چیز جس کے لئے انسان ایک دوسرے سے اختلاف رکھتا ہے وہ صداقت اور حقیقت ہوتی ہے۔پھر صداقت کے لئے ہم ذاتی بغض اور عداوت ایک دوسرے سے کیوں رکھیں۔اسلام کی ترقی کا انحصار اس نہیں کہ زید بکر کو گالیاں دے اور بکر عمر پر حملے کرے بلکہ اصول پر ہے اور تم ان اصول کی تعلیم دو تبلیغ کرو لیکن ذاتیات میں مت پڑو ایک دوسرے کو گالیاں مت دو - ہر شخص جسے بچا ہے بچائے اور آپس میں دست وگریبان نہ ہو۔آخر ہمارے وقت محدود ہیں ہمارے قلموں کا اور ہماری زبانوں کا حلقہ اثر محدود ہے۔ہر شخص اپنے حلقہ اثر میں ان امور کی تعلیم دے جو مشترکہ و متحدہ ہیں۔مسلمانوں کو ابھارے اور انہیں کے کہ مشترکہ فوائد کے لئے متحد ہو جاؤ۔پھر وہ اصول جن کے متعلق کوئی سمجھے کہ وہ مشترکہ نہیں مگر اس کے نزدیک ان پر چلنا ضروری ہے ان کے متعلق دلائل دے ان کی تبلیغ کرے اور ہر شخص ان کو شوق سے سنے۔مثلاً احمدی اس بات کے لئے تیار ہیں کہ گو ہمارا ایمان ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کی ترقی کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لائیں اور آر کے قائم کردہ نظام میں داخل ہوں کیونکہ یہ نظام خدا تعالٰی نے قائم کیا ہے لیکن ہم اس بات کے -