خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 340

خطبات محمود ۳۴۰ سال ۱۹۲۸ء قریب خرچ ہو چکا ہے مگر ابھی وہ نا مکمل ہے اور اندازہ ہے کہ تین چار کروڑ کم از کم اور اس پر خرچ آئے گا۔یہ صرف سرکاری دفاتر اور سڑکوں وغیرہ کا خرچ ہے لوگ اپنے مکان خود بنوائیں گے۔تو یہ ایک شہر کے بسانے کا خرچ ہے اور وہ بھی آدمیوں کا نہیں بلکہ اینٹوں اور چونے کا اندازہ ہے کہ چودہ پندرہ کروڑ روپیہ خرچ ہو گا۔پھر قو میں جو یہ کہیں کہ ہم نے شہر نہیں بسانا زندہ قوم نہیں پیدا کرنی ، زندہ ملک نہیں آباد کرنا بلکہ زندہ دنیا پیدا کرنی ہے ان کے لئے کیسی قربانی کی ضرورت ہے۔تاریخوں میں لکھتے ہیں کہ شاہ جہاں بادشاہ کی بیوی تاج محل جس کا روضہ مشہور ہے اس نے خواب میں دیکھا کہ میں مری ہوں اور میرا اس قسم کا مقبرہ بنا ہے۔ملکہ نے اپنا یہ خواب بادشاہ کے سامنے بیان کیا بادشاہ نے بڑے بڑے انجینئر بلائے اور ان کو خواب سنایا اور حکم دیا کہ ایسا نقشہ تیار کریں۔اس پر کئی ایک انجینیروں نے نقشے پیش کئے مگر کوئی بھی خواب کے مطابق نہ تھا آخر ایک ایسے انجینئر نے جو اس وقت کے لحاظ سے بڑے انجینئروں میں سے نہ تھا اور بادشاہ کے مقربین میں سے نہ تھا بادشاہ سے کہا کہ میں ایسا نقشہ پیش کر سکتا ہوں مگر شرط یہ ہے کہ آپ ایک کشتی میں بیٹھ کر میرے ساتھ دریا کے ایک کنارے سے دوسرے تک چلیں اور ساتھ لاکھ دو لاکھ روپوں کے توڑے رکھ لیں دریا کے دوسرے کنارے پر جاکر میں نقشہ بناؤں گا۔بادشاہ نے اس کو منظور کر لیا اور اس کے ساتھ کشتی میں بیٹھ کر دریا کے دوسرے کنارے کی طرف چلا۔انجینئر نے راستہ میں روپوں کے توڑے اٹھا اٹھا کر دریا میں پھینکنے شروع کر دیئے۔جب وہ تو ڑا پھینکتا تو ساتھ کہتا بادشاہ سلامت اس طرح روپیہ خرچ ہو گا تب مقبرہ بنے گا۔اس طرح اس نے لاکھ دو لاکھ روپیہ دریا میں پھینک دیا اور دوسرے کنارے تک پہنچ گئے۔وہاں جا کر انجینئر نے کہا بادشاہ سلامت نقشہ تو ہر ایک تیار کر سکتا ہے لیکن چونکہ اس پر اس طرح روپیہ خرچ ہو گا جس طرح میں نے بتایا ہے اس لئے کسی کو جرات نہ ہوتی تھی کہ اس قدر خرچ پیش کرے آپ اگر اس طرح خرچ کریں تو میں نقشہ پیش کروں۔بادشاہ نے کہا ہاں میں خرچ کروں گا اس پر اس نے نقشہ پیش کیا اور بادشاہ نے اسے منظور کر لیا۔اور آج دنیا کی بهترین عمارتوں میں سے ایک وہی تاج محل ہے جس پر کئی کروڑ روپے خرچ ہوئے۔پس اگر معمولی عمارتیں بڑی قربانیاں چاہتی ہیں تو قوموں کے تیار کرنے کے لئے کیوں بڑی قربانیاں کرنے کی ضرورت نہیں۔