خطبات محمود (جلد 11) — Page 314
خطبات محمود ۳۱۴ سال ۱۹۲۸ هو کہ ایک زمانہ تھا جب میں دوسروں کے ٹکڑوں پر بسر اوقات کرتا تھا مگر اب خدا نے مجھے توفیق دی ہے کہ ہزاروں لوگ میرے دستر خوان پر کھانا کھاتے ہیں۔جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے اور اس کے لئے سب کچھ چھوڑتا ہے اسے وہ ضائع نہیں کرتا۔پس کسی نقصان یا خوف کی وجہ سے تقویٰ کو ہاتھ سے نہیں دینا چاہئے۔روپے لینے یا دینے میں زمین لینے یا دینے میں۔اسی طرح اور دوسرے معاملات میں تقویٰ مد نظر رکھنا چاہئے۔دیکھو یہ بنے جن کے پاس کچھ نہ ہو تا تھا انہوں نے خدا تعالٰی کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کیا تو اپنے گھر بھر لئے۔مسلمانوں نے ستی کی اور وہ کنگال ہو گئے۔اگر چہ اسلام نے سود لینا یا دینا جائز نہیں رکھا لیکن اور ہزاروں تدبیریں رکھی ہیں جن پر عمل کر کے انسان رزق پیدا کر سکتا ہے۔خود بھی آرام حاصل کر سکتا ہے اور خدا کے بندوں کی بھی خدمت کر سکتا ہے لیکن اگر حرام مال حاصل کیا جائے تو وہ پہلے مال کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔پس ہر حالت میں تقویٰ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے یہی احمدیت کی غرض ہے۔اگر کسی کو تقویٰ حاصل نہ ہو تو اسے سمجھنا چاہیئے ابھی اور کوشش کی ضرورت ہے۔الفضل ۲۴ فروری ۱۹۲۸ء) (مفهوم نے منی باب ۲۷ آیت ۱۳ تا ۲۵ نارتھ انڈیا بائیل موسائی مرزا اور معبود شاه رمضونگا