خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 292

خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۲۸ء پھر فرمایا سب قوموں کے لوگ چادر کے کنارے پکڑلیں۔تو وہ آدمی جو اپنے اندر یہ پانچ ایمانی اور چھ عملی حالتیں پیدا کر لیتا ہے وہ جہاں جاتا ہے لڑائی جھگڑے مٹاتا ہے۔لڑائی وہی لوگ کرتے ہیں جن میں یہ حالتیں پیدا نہیں ہوتیں۔وجہ یہ کہ لڑنے اور فساد کرنے والا اخلاق یا ایمان میں کمزور ہوتا ہے تبھی اس سے ایسی باتیں سرزد ہوتی ہیں۔یہ وہ خطبہ ہے جو ہر جمعہ میں پڑھا جاتا ہے۔اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ جتنا اجتماع زیادہ ہو اسی قدر لڑائی جھگڑے کے سامان زیادہ جمع ہو جاتے ہیں اس لئے ان فسادات سے بچنے کے جو ذرائع ہیں وہ بھی استعمال کرنے چاہئیں۔دیکھو جس آدمی کے گھر ایک شخص کھانا کھانے والا ہوتا ہے وہ ایک کے کھانے کا انتظام کرتا ہے۔جس کے گھر دس آدمی ہوں وہ دس کے کھانے کی فکر رکھتا ہے۔اسی طرح جب تھوڑا اجتماع ہو تو اتنی احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی جتنی زیادہ اجتماع کے وقت ہوتی ہے۔خدا تعالٰی فرماتا ہے جب تم اجتماع میں جاؤ تو سے پہلے اپنے نفس کو دیکھو کہ اس میں تو کوئی نقص نہیں۔تم اپنے اندر حمد ، استعانت استغفار ایمان اور توکل پیدا کرنے کی کوشش کرو۔پھر عدل احسان اور اِيُنَائِي ذِي الْقُرُبی پر عمل کرو۔اور فحشاء منکر اور بعی سے بچو۔جب ایسا کرو گے تو کبھی فساد پیدا نہیں ہو گا کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی جب لوگ ان باتوں پر عمل کریں گے تو دین میں مضبوط ہوں گے اور لڑائی جھگڑا نہیں کریں گے۔لڑائی فساد کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ ایمان میں کمزوری ہوتی ہے جس کا اظہار لڑائی جھگڑے کی صورت میں ہوتا ہے۔ایک عارضی اور وقتی جھگڑا ہوتا ہے وہ اس میں شامل نہیں ہے۔وہ تو خدا تعالیٰ کے نبیوں میں بھی ہو جاتا ہے۔چنانچہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون میں ہو گیا تھا یہاں وہ لڑائی جھگڑا مراد ہے جس سے دلوں میں بغض اور کینہ پیدا ہو جائے۔اختلاف طبائع اور بات ہوتی ہے یہ تو میاں بیوی ، باپ بیٹے میں بھی پیدا ہو جاتا ہے مگر ایک سیکنڈ بھی نہیں گذر تاکہ آپس میں محبت کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔پس اسے لڑائی جھگڑا نہیں کہا جا سکتا ایسا جھگڑا تو بندہ اور خدا تعالی میں بھی ہو جاتا ہے۔اصل لڑائی جھگڑا یہ ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کے متعلق بغض و کینہ پیدا ہو جائے اور ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہ ہو۔ایک دوسرے سے ملنا نہ چاہے۔ایسی حالت میں ایک دوسرے کی نیکیاں بھی برائیاں معلوم ہونے لگتی ہیں۔اگر ایک شخص چندہ دیتا ہے تو دوسرا سمجھتا ہے ریا کاری سے دے رہا ہے۔اگر