خطبات محمود (جلد 11) — Page 265
خطبات محمود ۲۶۵ سال 1927ء یہی حال قوموں کا ہے جو قومیں دنیوی ترقی حاصل کرنا چاہتی ہیں۔وہ جب تک دوسری قوموں کے ماتحت رہتی ہیں۔کامل ترقی حاصل نہیں کر سکتیں۔جتنی جتنی انہیں حریت ملتی ہے۔اتنا اتنا آگے قدم بڑھاتی ہیں۔اور کسی قوم کو اپنی سیاست کو مضبوط کرنے کی جو ضرورت ہے یہ اس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی جب تک کامل طور پر سیاسی آزادی حاصل نہ ہو۔پہلی گورنمنٹ کو نکالنا پڑے گا پھر اپنا قانون جاری کیا جا سکے گا۔اسی طرح اگر تمدنی ترقی کی طرف قدم اٹھانا ہے تو پہلے ان رسوم اور رواج کو تو ڑنا ہو گا جنہوں نے تمدنی ترقی میں رکاوٹ پیدا کر رکھی ہے۔غرض ہر کام کے لئے پہلے روکوں کو دور کرنا ضروری ہوتا ہے۔اور پھر ترقی کے سامان سے کام لینے پر کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ میں یہ گر بتایا گیا ہے کہ ہر کام کرنے سے پہلے دیکھو اس میں کون سی روکیں حائل ہیں ہر کام کے متعلق علیحدہ علیحدہ روکیں ہوتی ہیں سیاست کی روکیں علیحدہ ہیں۔تمدن کی علیحدہ مذہب کی علیحدہ اور جب تک ان روکوں کو دور نہ کیا جائے جو کسی کام کے رستہ میں حائل ہوتی ہیں اس پہلو سے ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔کوئی قوم حکومت والی ترقی اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک غیر حکومت کی ماتحتی سے آزاد نہ ہو جائے۔مگر تجارت میں ترقی کر سکتی ہے تجارت کے رستہ میں اور روکیں ہیں اگر ان کو دور کیا جائے تو ترقی ہو سکتی ہے۔اسی طرح دین کے معاملہ میں ترقی کرنے کے راستہ میں جو روکیں ہیں۔ان کو دور کر لیا جائے تو باوجود تمدنی سیاسی اور اقتصادی روکوں کے مذہبی لحاظ سے ترقی ہو سکتی ہے۔غرض جب تک کسی کام میں پیش آنے والی روکوں کو دور نہ کیا جائے۔اس وقت تک اس میں ترقی نہیں ہو سکتی۔پس مؤمن کو اپنی روحانی اصلاح اور ترقی کے متعلق پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کے رستہ میں کیا کیا روکیں ہیں ہمیں چونکہ روحانیات کا زیادہ خیال ہے سیاسیات کا اتنا نہیں۔گو اگر کوئی موقع ہو اور ضرورت ہو تو ہم اس بارے میں بھی مشورہ دے دیتے ہیں۔اس لئے روحانیات کے متعلق ہی ذکر کیا جاتا ہے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ روحانی ترقی کے رستہ میں کیا رو کیں حائل ہیں۔بیسیوں ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی فطرت پاک ہوتی ہے۔وہ روحانی اصلاح کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔اگر وہ اللہ تعالیٰ کی طرف ترقی کرنے کے گر پاسکیں تو ترقی کر سکتے ہیں۔مگر جہالت میں گھرے ہونے کی وجہ سے محروم رہتے ہیں۔ایسے لوگوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ شریعت کا علم حاصل کر ہیں۔بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی فطرت اچھی ہوتی ہے علم بھی رکھتے ہیں۔ترقی کے لئے جو باتیں ضروری ہوتی ہیں وہ بھی جانتے ہیں۔مگر بعض گندی عادات ان کو پڑی ہوتی ہیں ان سے