خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 217

خطبات محمود ۲۱۷ سال 1927ء خدا کے مسلسل نشانوں سے فائدہ اٹھائیں فرموده ۲۱/اکتوبر۱۹۲۷ء) 1 تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بیان کیا تھا کہ ہمیشہ ہی سچائی اور حق کی اشاعت کے وقت اللہ تعالٰی بعض لوگوں کو ان کی کسی مخفی شرارت کی وجہ سے یا ظاہری گناہوں کے سبب اس بات کے لئے چن لیتا ہے کہ اس کے سلسلہ کی اشاعت کے راستہ میں روک ڈالیں۔اور اس کی جماعت کی ترقی میں رخنہ اندازی کریں۔کبھی ایسے لوگ خود جماعت میں سے ہی کھڑے ہو جاتے ہیں۔کبھی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے لیکن نام سے تعلق رکھتے ہیں۔کبھی نہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں نہ نام سے بلکہ الگ ہوتے ہیں یہ لوگ خفیہ ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یا ظاہری فتنہ پردازیوں کی وجہ سے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہمیں وہ طاقت اور قوت حاصل ہو گئی ہے جو خدا کے منشاء کو پورا ہونے سے روک دے گی۔اور اس کے قائم کئے ہوئے نظام کو توڑ دے گی۔کئی باتوں میں رکاوٹ پیدا بھی ہو جایا کرتی ہے لیکن اللہ تعالی کا جو منشاء ہوتا ہے اور جس بات کا وہ فیصلہ کر چکا ہے اس میں ایسے لوگ روک نہیں بن سکتے ان کی تمام کوششیں ان کی تمام تدبیریں اور تمام جد و جہد بعض اوقات بظاہر ایک غبار آلود مطلع پیدا کر دیتی ہیں۔لیکن ان کی حیثیت غبار سے زیادہ نہیں ہوتی خس و خاشاک کی طرح اڑ جاتے ہیں اور کوئی نشان باقی نہیں رہتا۔کبھی کبھی کچھ نشانات باقی بھی رہ جاتے ہیں مگر اس لئے کہ آنے والے منافقوں اور دشمنوں کے کام آئیں۔جیسے رسول کریم ﷺ کے وقت کے منافقوں کی باتیں آج تک قائم ہیں اور ان سے ہندو عیسائی وغیرہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔یہ خیال کرنا کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے دو تین سو سال بعد آپ کے خلاف یہ الزام گھڑا گیا کہ آپ اپنی پھوپی زاد بہن کو نگا دیکھ کر اس پر عاشق ہو گئے تھے یا یہ کہ اپنی بیوی کی لونڈی سے آپ کا تعلق