خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 216

خطبات محمود سال 1927ء یا نہیں۔اگر چسپاں ہونگے تو ایک اعتراض چھوڑ اگر دس ارب اعتراض بھی کئے جائیں تو ان کی کوئی پرواہ نہ ہوگی۔پس یہ نادانی ہے ان لوگوں کی جو ایسے امور میں مبتلا ہو کر سلسلہ کو نقصان پہنچانے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں مگر وہ یاد رکھیں سلسلہ کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔خود ہلاکت اور عذاب میں جتلا ہو جائیں گے۔ایسے لوگ خواہ اندرونی منافقوں میں سے ہوں یا بیرونی مخالفوں میں سے۔خواہ ان میں سے ہوں جو علی الاعلان مخالفت کرنے میں اتنے بڑھے ہوئے ہیں کہ اسلام کی امداد اور تائید کے لئے بھی مل بیٹھنا پسند نہیں کرتے غرض کسی گروہ سے ہوں سلسلہ کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے۔یہ سلسلہ مقدر لیکر آیا ہے اور مقسوم لے کر آیا ہے کہ روز بر روز ترقی کرے اور آگے ہی آگے بڑھے۔اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔یہ باتیں میں نے اشار تا اور تمہید ابیان کی ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو آئندہ تفصیل سے بیان کروں گا۔مگر یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ ایسی باتوں میں حصہ لیتا اور دلچسپی ظاہر کرنا ثبوت ہے اس بات کا کہ ایسے لوگ نا بینا ہیں۔انہوں نے دلائل سے مانا ہی نہیں۔اگر دلائل سے مانا ہو تا تو ایسا نہ کرتے۔احمدیت ورثہ کے طور پر نہیں چلی آرہی کہ کسی کو اس کے متعلق دلائل معلوم کرنے کا موقعہ نہیں ملا بلکہ احمدیت ہر ایک کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔یہ دنیا کی منڈی میں رکھی ہوئی جنس ہے۔ہر قوم اور ہر رنگ کے لوگ آتے اور اعتراض کرتے ہیں۔اس وجہ سے اس کی کوئی بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔یہ ایک کھلا ہوا تھان ہے۔جو سب لوگوں کی نظروں کے سامنے ہے۔اس لئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اسے دھوکا دیا گیا۔یہ مال ایسی منڈی میں رکھا ہوا ہے جس کے ارد گرد دشمن ہی دشمن ہیں۔خدا تعالٰی نے دین کا نام بیچ رکھا ہے اب اگر کوئی اسے خرید تا ہے اور پھر کہتا ہے مجھے غلطی لگ گئی تو معلوم ہوا کہ یقینا وہ نابینا ہے۔کیونکہ سامنے رکھی ہوئی چیز سے ایک بیٹا کو کس طرح غلطی لگ سکتی ہے۔اور وہ کس طرح دھوکا کھا سکتا ہے۔کسی کا یہ کہنا دلالت کرتا ہے کہ وہ نابینا ہے اور ایسا نا بینا ہے جو کسی نصرت کا مستحق نہیں اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ جو اس دنیا میں اندھا رہے گا۔یقیناوہ اگلے جہان میں بھی اندھا اٹھایا جائے گا۔الفضل ۲۱ / اکتوبر ۱۹۲۷ء)