خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 198

خطبات محمود ۱۹۸ سال 1927ء سورۃ فاتحہ میں ایک مطالبہ فرموده ۲۶/ اگست ۱۹۲۷ء بمقام شمله) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : میں نے خیال کیا تھا کہ یہ جگہ پہلی جگہ کی نسبت ہماری کوٹھی سے زیادہ قریب ہو گی لیکن یہ دور نکلی۔اور دفتروں میں کام کرنے والوں کے لئے زیادہ دیر ہو گئی۔اس لئے میں سورۃ فاتحہ کے اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے ایک مطالبہ کرتا ہے۔اگر وہ اس مطالبہ کو مد نظر رکھتے ہوئے عمل کریں تو دنیا میں ہر قسم کی ذلت سے بچ جائیں اور ہر طرح کی کامیابی حاصل کرلیں۔وہ مطالبہ KOOOOON KA WAKKAAT LGA میں ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ دنیا میں دوڑ جاری ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ایسے راستہ پر اور ایسے طریق پر دوڑیں کہ جلد سے جلد اللہ کے قرب میں پہنچ جائیں۔دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک وہ جو سیدھے راستہ پر چلتے اور ادھر ادھر نہیں بھٹکتے۔وہ وقت پر پہنچ جاتے ہیں۔دوسرے وہ ہوتے ہیں جو یا تو سیدھے راستہ پر نہیں چلتے یا ادھر ادھر وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ایسے لوگ منزل مقصود پر وقت پر نہیں پہنچ سکتے یا بالکل نہیں پہنچ سکتے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ سیدھے دوڑیں۔ادھر ادھر نہ جائیں۔تاکہ اس مقام پر پہنچ جائیں جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے۔سورۃ فاتحہ میں بتایا گیا ہے کہ دو ڑ کس طرح دوڑنی چاہئے۔اگر مسلمان یہ خیال رکھیں کہ قریب ترین راستہ پر چل کر منزل مقصود پر پہنچنا ہے تو ان سے کوئی قوم کسی کام میں آگے نہیں بڑھ سکتی۔صوفیا میں ہم دیکھتے ہیں وہ کس طرح التزام رکھتے تھے۔حضرت اسمعیل بریلوی سے بیان کیا گیا کہ ایک سکھ اس قدر تیرتا ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔اس