خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 155

خطبات محمود ۱۵۵ سال 1927ء چاہے چلا جائے۔اور جو مسلمان ہو گا وہ جہاں ہو گا وہیں تبلیغ کرے گا اس لئے جو مسلمان مکہ میں رہیں گے وہ اوروں کو مسلمان بنا ئیں گے۔اب دیکھو اس معاملہ میں کیا نتیجہ نکلا کفار کی تباہی کا موجب یہی معاہدہ بن گیا۔اور وہ اس طرح کہ مکہ کے بعض لوگ مسلمان ہو گئے۔اور مسلمان ہو کر کفار کی تکلیفوں سے بچنے کے لئے مدینہ آگئے۔ان کو واپس لے جانے کے لئے کفار کے آدمی رسول کریم اے کے پاس آئے۔اور واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا۔رسول کریم ﷺ نے ان کو واپس کر دیا۔مگر وہ رستہ سے چھوٹ کر پھر بھاگ آئے۔جب پھر ان کو لینے کے لئے آئے۔تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ نے تو معاہدہ کی رو سے ہمیں بھیج دیا تھا۔اب ہم ان سے چھوٹ کر آگئے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں تم چلے جاؤ۔وہ چلے تو گئے لیکن مکہ جانے کی بجائے مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ٹھہر گئے۔اور جب اور لوگوں کو بھی پتہ لگا کہ وہاں ٹھرے ہوئے ہیں تو وہ بھی آنے لگ گئے۔اور ان کی ایک جماعت بنی شروع ہو گئی۔چونکہ وہ کفار کے ستائے ہوئے تھے۔اس لئے شام کی طرف جو قافلے جاتے۔ان سے چھیڑ چھاڑ شروع ہو گئی۔آخر مکہ والوں نے مجبور ہو کر رسول کریم اے سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو اپنے پاس بلا لو۔چنانچہ رسول کریم اے نے ان کو بلالیا۔لے یہ بھی ایک تدبیر تھی جس سے فتح مکہ کی بنیاد رکھی گئی۔اگر اس وقت صحابہ لڑ پڑتے اور اس تدبیر کو قبول نہ کرتے تو فتح نہ ہوتی۔پس فتح ہمیشہ دماغ کے ذریعہ ہوتی ہے۔اور چونکہ دماغ کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ انسان کے سارے جسم پر حکومت کرے۔اس لئے جس طرح بے سر کی کوئی فوج کامیاب نہیں ہو سکتی۔اسی طرح بے سر کا کوئی انسان بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔اس وقت چونکہ دشمن اسلام پر حملہ آور ہو رہے ہیں۔اور اسلام پر نہایت نازک گھڑی آئی ہوتی ہے۔اس لئے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو اور ان لوگوں کو جن پر میری باتوں کا اثر ہو سکتا ہے؟ کہتا ہوں کہ یہ زمانہ سب سے زیادہ دماغ کے استعمال کرنے کا زمانہ ہے۔اس وقت ہاتھوں کو استعمال کر کے غلبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔اگر اس وقت کوئی ایسی لڑائی شروع کرتا ہے۔جس سے اسلام کو نقصان پہنچتا ہے۔تو بتاؤ - خدا کے سامنے وہ کیا جواب دے گا۔کیا خدا تعالیٰ اس پر اس لئے خوش ہو گا کہ اس نے اسلام کے دشمنوں سے لڑائی کر کے اسلام کو نقصان پہنچایا۔ہرگز نہیں خدا تعالیٰ تو اسے کہے گا۔تو نے اسلام کے لئے نہیں بلکہ اپنے نفس کے لئے لڑائی لڑی۔اس لئے میرے عتاب کا مورد بن۔اسی طرح اگر کوئی خدا تعالٰی سے یہ کہے کہ میں نے خوب زبان چلائی لیکن اس