خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 6

سال 1927ء جو حضرت عائشہ کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے۔ان کو اللہ تعالٰی نے مضبوط دل دیا ہوا تھا۔وہ خاندان نبوت میں سے تھے جو سب کے سب بہادر تھے۔اور یہ نوجوان بھی تھے۔ان کے مقابل مالک بھی تجربہ کار اور قوی تھا اس لئے پہلے تو دونوں کا خوب مقابلہ ہو تا رہا۔مگر جب تلواریں ٹوٹ گئیں تو کشتی شروع ہو گئی۔حضرت عبداللہ کو بہادر تھے لیکن جسم کے ہلکے تھے اور مالک طاقت میں زیادہ تھا اس لئے حضرت عبد اللہ جب طاقت میں اس کا مقابلہ نہ کر سکے تو ان کو مالک نے نیچے گرا لیا اب دونوں طرف کے لشکر خاموش کھڑے تھے۔اور دونوں نے اپنے ہتھیار روکے ہوئے تھے۔اس خیال سے کہ ان کے آدمی کو نقصان نہ پہنچے۔اس وقت حضرت عبد اللہ کشتی لڑتے لڑتے شعر پڑھ رہے تھے۔اور اپنے ساتھیوں کو مخاطب کر رہے تھے۔کہ ارے دوستو۔دیکھ کیا رہے ہو۔تم میری پرواہ نہ کرو مالک کو میرے ساتھ ہی قتل کر دو۔یہ پرواہ نہ کرو کہ میں بھی مارا جاؤں ، مگر اس مالک کو تو قتل کر دو۔اس کا خاتمہ کر دو تاکہ اس کے خاتمہ سے فتنہ کا خاتمہ ہو جائے۔اور اسلام سے فتنہ دور ہو جائے یہ اس واقعہ سے ایک تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ مالک صحابہ کے درمیان فتنہ و فساد کا بانی مبانی تھا۔دوسری بات اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ترقی کے لئے اور فتنوں کو دور کرنے کے لئے کبھی ایک شخص کا مارنا بھی بہتر ہوتا ہے۔تفرقہ کے مٹانے کے لئے مفسد انسان کا مٹانا بھی ضروری ہوتا ہے۔خواہ اس شخص کے مٹانے میں خود بھی مٹنا پڑے۔دیکھو آج فتنہ دجال کا زمانہ ہے۔اور اس فتنہ کی وجہ سے اسلام پر ایک بہت بڑی مصیبت وارد ہے۔جو اس کو کھائے چلی جاتی ہے۔اس لئے اس وقت ضرورت ہے کہ ایسی قوم اٹھے کہ جو حضرت عبد اللہ کی طرح پکارے کہ اگر کفر کو مٹاتے ہوئے ہم آپ بھی مٹ جائیں تو کوئی پرواہ نہیں۔وہ قوم کہ جس کا یہ فرض ہے کہ وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کی طرح پکارے وہ احمد کی جماعت ہے۔اللہ تعالٰی نے حضرت مسیح موعود کو ابراہیم بھی کہا ہے۔یعنی آپ کو حضرت ابراہیم سے مشابہت دی ہے۔یہ مشابہت اسی طرح پوری ہو سکتی ہے کہ آپ کے روحانی فرزند بھی اسی طرح قربان ہونے کے لئے تیار ہوں جس طرح حضرت ابراہیم کے فرزند حضرت اسماعیل تیار تھے۔اب تلوار کا زمانہ نہیں رہا۔دین کے لئے تو پوں اور بندوقوں کا زمانہ نہیں۔اب ایک اور قسم کی قربانی مسلمانوں کے لئے ہے۔وہ یہ کہ لوگ بھوکے اور پیاسے رہ کر اسلام کو بلند کریں اور اس کو مضبوط کریں۔