خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 76

سال 1927ء 44 خطبات محمود تدبیروں سے بھی ہوشیار رہنا چاہئے۔ اور بعض عارضی خوشیوں پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے۔ بلکہ کام کر کے خوش ہونا چاہئے۔ ہمیشہ دشمن کی طاقت کا صحیح اندازہ کرنا چاہئے کیونکہ دشمن کی طاقت کا کم اور زیادہ اندازہ ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔ زیادہ اندازہ بعض وقت خطرناک نہیں ہوتا لیکن کم اندازہ تو ہر وقت ہی خطرناک ہوتا ہے کیونکہ جب اندازہ کم لگایا جاتا ہے۔ تو اس وقت غفلت آجاتی ہے اور ایک شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ اگر اس کا مقابلہ نہ بھی کیا جائے گا تو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ ہاں بعض مومن ہوتے ہیں جنہوں نے فیصلہ کیا ہوتا ہے کہ اگر ایک دشمن ہو تو کیا اور اگر ہزار دشمن ہو تو کیا ہم نے کام کرنا ہے۔ ایسے مومنوں کے لئے چاہے دشمن ایک ہو چاہے لاکھ ہوں ایک ہی بات ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے فیصلہ کیا ہوتا ہے کہ ہمارا یہ کام ہے کہ دین کے لئے جان تک دے دیں گے لیکن ہر ایک آدمی ایسا نہیں ہوا کرتا۔ بعض آدمی تب تک ہوشیار نہیں ہوتے جب تک ان کو دشمن کی طاقت کا صحیح اندازہ نہ ہو جائے۔ پس اس مقابلہ کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر وقت دشمن کی طاقت کا صحیح اندازہ رکھنا چاہئے۔ پھر زیادہ اندازہ بھی مضر ہوتا ہے کیونکہ ایک آدمی دشمن کی طاقت اپنی طاقت سے زیادہ دیکھ کر کام چھوڑ دیتا ہے۔ اور کام کرنے کا حوصلہ ہار بیٹھتا ہے لیکن کم اندازہ اس سے بھی زیادہ خطر ناک ہوتا ہے کیونکہ اس سے انسان غافل ہو جاتا ہے۔ اور بچی کوشش نہیں کرتا۔ پس میں تمام مسلمانوں سے اسلام اسلام کا درد رکھنے والے تمام شخصوں سے اور ہر فرقہ اسلام کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ دشمن کی طاقت اور اپنی کمزوری کا صحیح اندازہ لگاتے ہوئے کم از کم تین باتوں کا ضرور خیال و رکھیں جو میں نے کسی ہیں تاکہ ہم دشمن کا مقابلہ کر سکیں اور اس کے حملوں کو روک سکیں۔ ہندو اپنے مذہب کے لحاظ سے شدھی کی کوشش نہیں کر رہے بلکہ سیاسی طور پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ اور اس سیاسی کوشش کو انہوں نے مذہبی رنگ دے دیا ہے ۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں جب تک مذہبی رنگ نہ دیا جائے گا۔ تب تک یہ سیاسی کوشش کارگر نہ ہوگی۔ اس کوشش کی اصل غرض یہ ہے کہ ان کی تعداد بڑھے۔ اور تمام ملک میں ایک مذہب ہو جائے ۔ کیونکہ اگر تمام ملک میں ایک مذہب ہو جائے تو پھر جو کچھ ہوں گے ہندو ہی ہوں گے ۔ یہ دراصل ہندوؤں کی سیاسی کوشش ہے۔ اور چونکہ ان کی اس کوشش کا اثر سب مسلمانوں پر پڑتا ہے ۔ خواہ وہ مسلمان اسلام کے کسی فرقے سے ہی تعلق رکھتے ہوں۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ بھی اس موقع پر اکٹھے ہو کر کام کریں۔