خطبات محمود (جلد 11) — Page 77
خطبات ا سال 1927ء ان حالات کے ماتحت جو اس وقت پیدا ہو رہے ہیں۔مسلمانوں کو ان تین باتوں کے کرنے کا فیصلہ کرنا چاہئے۔اور یہ کوئی مشکل باتیں نہیں۔جنہیں وہ نہ کر سکیں۔اسلام کی عظمت قائم کرنے کے لئے یہ بہت معمولی باتیں ہیں۔جو میں چاہتا ہوں کہ مسلمان اس موقع پر کریں:۔سب سے پہلی بات تو یہی ہے کہ آپس کے جھگڑے آپس تک ہی رہیں۔ہم اگر ایک دو سرے سے جھگڑتے ہیں اور اختلاف رکھتے ہیں تو اس کا اثر ہم تک ہی محدود رہنا چاہئے نہ یہ کہ اسلام کے دشمنوں سے مقابلہ کرتے وقت ایک دوسرے کے برخلاف اثر ڈال کر اپنی طاقت کو کمزور کیا جائے۔ہندوؤں کی سیاسی کوشش کا اثر اسلام کے تمام فرقوں پر پڑ رہا ہے اور پڑے گا۔وہ اپنی مخالفت کے وقت کسی کو مستثنیٰ نہیں کرتے۔اور ہم بھی جب تک متحد نہ ہوں گے۔ان کے حملوں کا جواب نہ دے سکیں گے اس لئے یہ ضروری بات ہے کہ ہم اگر اختلاف رکھتے ہیں تو ان اختلافات کو اپنے اندر ہی محدود رکھا جائے۔اور جب دشمن سے مقابلہ کا وقت ہو تو ان جھگڑوں کو چھوڑ کر اس کے مقابلہ اور اس کے حملہ کی روک کے واسطے ہم یک جان ہو جائیں۔پس پہلی بات جس کا اس وقت مسلمانوں کو فیصلہ کرنا چاہئے وہ یہی ہے کہ آپس کے جھگڑے آپس تک ہی رہیں۔اور دشمن کے مقابلہ کے وقت آپس میں متحد ہو جائیں اور ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔دوسری بات جس کا کرنا اس وقت بہت ضروری ہے یہ ہے کہ مسلمان ہر مقام سے باخبر رہیں کہ وہاں کیا ہو رہا ہے اور دشمن کس رنگ میں حملہ کر رہا ہے۔تا اس کی روک کا انتظام کیا جاتا سکے اور یہ کام ہر جگہ کے مقامی لوگ ہی اچھی طرح کر سکتے ہیں۔ہماری جماعت کے لوگ تو ایسا کرتے ہی ہیں۔لیکن ہو سکتا ہے کہ کوئی واقعہ ہو دشمن کوئی کارروائی کر رہا ہو لیکن انہیں خبر نہ ہو سکے۔اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض جگہ ہماری جماعت کے لوگ نہ بھی ہوں۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ جہاں جہاں مسلمان ہوں وہاں وہ ان حالات سے باخبر رہیں۔اور ان کے حملوں کے جواب دیں۔لیکن جو لوگ سمجھتے ہوں کہ وہ جواب نہیں دے سکتے اور اسلام کے دشمنوں کے حملوں کا دفاع کرنے کی ان میں طاقت نہیں وہ ہمیں خبر کریں ہم اپنے آدمی بھیج دیں گے۔تیرے جہاں ضرورت ہو گی ہمارے واعظ انشاء اللہ تعالیٰ پہنچیں گے اور اسلام کے دشمنوں کے حملوں کے جواب اور ان کے زہر کے اثر کو زائل کرنے کے لئے جہاں سے بلائے جائیں گے وہاں بھیجے جائیں گے۔مگر اس کے لئے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اس جگہ کے مقامی لوگ جہاں آریوں اور عیسائیوں نے شور ڈالا ہو جلسے قائم کر کے ہمارے واعظوں کو بلوا ئیں۔اور