خطبات محمود (جلد 11) — Page 73
خطبات محمود ۷۳ سال 1927ء گا۔پس میں احمدی دوستوں سے کہتا ہوں۔خواہ وہ قادیان کے رہنے والے ہوں۔خواہ باہر کے اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے اور اسلام کے لئے اس مقابلہ کے میدان میں نہیں اتر سکتے تو فیصلہ کر دیں کہ ہم اس جنگ کے لئے تیار نہیں۔لیکن اگر وہ اس جنگ کے لئے تیار ہیں۔تو میں انہیں کہتا ہوں کہ وہ ایک جان ہو کر مضبوط عزم کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔اور ایسی بلند آواز اٹھا ئیں کہ ہر ہندو کے کان میں وہ پہنچے۔اور کوئی شخص اس آواز کو دبانہ سکے۔اپنی جماعت کو مخاطب کرنے کے بعد میں مسلمانوں کو بھی اس طرف متوجہ کرتا ہوں۔اگر اور کچھ نہیں تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے ایک خوبی تو ان میں بھی ہے یعنی کا خر کنند دعوی حب پیمبرم کہ وہ آنحضرت ﷺ کی محبت کا دعوئی رکھتے ہیں۔اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم ان کے ہونٹوں سے تو یہ بات نکلتی ہے کہ نبی کریم اللہ کی محبت ان کے اندر ہے۔اور پھر ان میں سے بعض تو اسلام کا درد بھی رکھتے ہیں۔پس جب یہ بات ان میں پائی جاتی ہے تو میں ان الفاظ کا ہی واسطہ دے کر انہیں کہتا ہوں کہ وہ جو آنحضرت ا کی محبت کے الفاظ بولتے ہیں۔ان کا لحاظ کر کے ہی وہ اس نازک وقت میں اسلام کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس وقت یقینا وہی براہین اور دلائل کارگر ہو سکتے ہیں۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتائے ہیں۔مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کی لڑائی چھوڑ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔میں یہ نہیں کہتا کہ غیر احمدی ہمارا مقابلہ نہ کریں۔بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہمارا مقابلہ نہ کریں۔جس جگہ احمدیت کی تبلیغ ہو۔بے شک اس جگہ وہ اپنا سارا زور لگائیں۔ہاں اتنی بات میں پھر بھی کہوں گا کہ دیانت کے ساتھ زور لگائیں۔کیونکہ بہت سی ہماری مخالفت ذاتی عداوت پر مبنی ہوتی ہے۔اور لوگ کسی مسئلے یا عقیدے کی بناء پر ہماری مخالفت نہیں کرتے۔بلکہ بسا اوقات بعض ذاتی دشمنیوں کے لحاظ سے کرتے ہیں۔اس لئے میں جہاں یہ کہوں گا۔کہ دشمن کے مقابلہ میں ہمارا مقابلہ نہ کریں اور جہاں احمدیت کی تبلیغ ہو وہاں پورا زور لگائیں۔وہاں میں یہ بھی کہوں گا کہ وہ دیانت کے ساتھ زور لگا ئیں اور ایمان کو مد نظر رکھتے ہوئے اور خدا کا خوف دلوں میں رکھتے ہوئے زور لگا ئیں۔تا ایسا نہ ہو کہ ذاتی مخالفت کی وجہ سے وہ اپنے موجودہ ایمان کو بھی کھو بیٹھیں۔وہ احمدیت کے برخلاف زور لگا ئیں۔لیکن جہاں آریہ اور عیسائیوں سے مقابلہ ہو وہاں یہ ثابت کر دیں کہ رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے والوں سے رسول کریم