خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 65

40 سال 1927ء انسان نیک طور پر استعمال کرتا ہے تو معزز ہو جاتا ہے۔اور اگر وہ بد طور پر استعمال کرتا ہے تو ذلیل ہو ر جاتا ہے۔میرے نزدیک طاقت اور قوت کا درست اور بر محل استعمال اور جرات و بہادری بھی نہایت عمدہ صفت ہے۔وہ جرات اور بہادری جسے سچائی کا یقین رکھتے ہوئے ظاہر کیا جائے وہ قابل تعریف ہوتی ہے۔میں دوسروں کی نسبت تو نہیں کہہ سکتا۔مگر اپنی فطرت کے مطالعہ سے کہتا ہوں کہ مجھے تو ایک دشمن کی بہادری بھی پسندیدہ نظر آتی ہے۔کوئی میری جان کا بھی دشمن ہو۔وہ اگر کوئی کام بہادری سے کرتا ہے تو میری فطرت اسے بھی پسند کرتی ہے۔لیکن بزدلی کبھی دنیا میں پسند نہیں کی جاتی نہ نیکوں میں نہ بدوں میں۔یہاں تک کہ ایک بزدل چور بھی چوروں میں برا سمجھا جاتا ہے۔ایک شخص نے ابھی چند دن ہوئے ایک قتل کیا۔ایک نیپالی لڑکی کو ایک دولت مند ہندو نے خرید لیا۔اور بغیر نکاح کے اپنے گھر میں رکھا۔ایک شخص نے جو ڈاکٹری کا طالب علم تھا اس شخص کو مار دیا۔اور خود پولیس میں جاکر اقبال جرم کر لیا۔اس نے کہا چونکہ ہندو ہماری قوم کی لڑکیوں کو اس طرح قبضہ میں لے کر ان کی عصمت بگاڑتے ہیں۔جو ہماری قوم پر بد نما دھبہ ہے اس لئے میری غیرت نے گوارا نہ کیا کہ میں اسے برداشت کروں اور میں نے اسے مار دیا۔مقدمہ شروع ہوا۔اور جج نے پھانسی نہیں دی بلکہ آٹھ سال قید کی سزا دی ہے لیکن اس پر بھی ملک میں شور پڑا ہوا ہے کہ اسے چھوڑ دینا چاہئے۔اس نے اچھا کام کیا ہے۔مگر یہ بات غلط ہے۔کیونکہ کسی مجرم کو خود سزا دینا بالکل غلط طریق ہے اگر یہ طریق جاری ہو جائے تو تمدن اور تہذیب ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔لیکن باوجود اس بات کے اس کے فعل کو کچی بہادری کہا جاتا ہے۔کیونکہ اس نے اپنی قوم کی عزت کی خاطر یہ کام کیا۔گو غلط طریق سے کیا۔کیا ہندو اور کیا مسلمان حتی کہ انگریزوں کی ایک سوسائٹی نے بھی اس کی رہائی کی درخواست کی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ دلیرانہ فعل تھا جو اس نے کیا۔اور اس دلیری سے اس کام کی برائی چھپ گئی۔بچپن میں ایک طالب علم ہم کو ڈاکوؤں کے قصے سنایا کرتے تھے اور ان قصوں کو سناتے ہوئے وہ ایسے مزے لیا کرتے تھے۔جیسے کسی نبی کا قصہ سنا رہے ہیں۔اس وقت سندر سنگھ اور جبرو کے واقعات مشہور تھے جو بڑی تعریف کے ساتھ سناتے۔سندر سنگھ اور جبرو کی کیوں تعریف ہوتی تھی۔حالا نکہ وہ ڈاکو تھے اور ڈاکے مارتے تھے جو برا کام ہے۔مگر اس برے کام کی بھی لوگ تعریف کرتے تھے۔اس کی صرف یہی وجہ تھی کہ وہ دلیری سے ڈاکے مارتے تھے۔بے شک ڈاکہ زنی برا کام ہے۔