خطبات محمود (جلد 11) — Page 55
خطبات محمود ۵۵ سال 1927ء میں دیکھتا ہوں۔ کہ وہ قلوب جو خدا تعالیٰ کی مہر کے نیچے ہوتے ہیں وعظ ان پر اثر نہیں کرتے۔ ان کے سامنے خدا کانور چمکتا ہے۔ مگر ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں خدا کی آواز ان کے کانوں میں پڑتی ہے مگروہ بیدار نہیں ہوتے ۔ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے تم اپنے آپ کو بچاؤ تا تم ایسے نہ ہو جاؤ ۔ یہ رمضان کے مبارک دن ہیں۔ ان میں اپنے زنگوں اور میلوں کو دھو ڈالو۔ میں دعا کرتا ہوں کہ مردہ دلوں کو زندگی ملے۔ اور خدا کے مقدس کلام کو سمجھنے کی توفیق پائیں۔ ان میں نفاق نہ ہو اخلاص ہو ۔ ان لوگوں سے جو یہاں آئے بعض نے عبادتیں بھی کیں۔ اخلاص بھی دکھایا ۔ خدمتیں بھی کیں۔ مگر زنگ باقی رہ گیا۔ اور پورے طور پر نہ اتر سکا۔ خدا ان کا زنگ دور کر دے ۔ تاوہ عضو معطل نہ ہو جائیں ۔ گل سڑ نہ جائیں ۔ اور اس عضو کی طرح جو سڑ گیا ہو۔ کاٹے جا کر الگ نہ پھینک دیئے جائیں۔ وہ گندے عضو کی طرح ایک کٹا ہوا حصہ نہ ہوں۔ اور کون ہے جو عضو کٹوا دینے سے خوش ہو ہم بھی خوش نہیں کہ کوئی ہم میں سے اس طرح کاٹا جائے مگر اس کا ایک ہی طریق ہے کہ وہ اپنے آپ کو گلنے سڑنے اور معطل ہونے سے بچائے۔ پس میں دعا کرتا ہوں کہ خدا ان کو جن پر موت وارد ہو چکی ہے۔ پھر زندہ کر دے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردہ کو زندہ کر دے۔ آمین۔ خطبہ ثانیہ میں فرمایا۔ میں جمعہ کی نماز کے بعد دو جنازے پڑھاؤں گا۔ پہلا جنازہ زوجہ مولوی شاء اللہ صاحب نظامی سکرٹری جماعت اکھنور جموں کا ہے۔ وہاں تھوڑے احمدی تھے جو انکا جنازہ پڑھ سکے دوسرا جنازہ میاں رحیم بخش صاحب کٹوعہ جموں کی بیوی کا ہے جو اپنے شہر میں فوت ہو گئی ہیں وہاں بھی احمدی نہیں تھے ۔ ان کا جنازہ نہیں پڑھا گیا یہ دو جنازے آج جمعہ کی نماز کے بعد پڑھاؤں گا۔ (الفضل ۲۵ مارچ ۱۹۲۷ء)