خطبات محمود (جلد 11) — Page 52
خطبات محمود ۵۲ سال 1927ء واسطے ہوتی ہیں۔اور کبھی غیر محدود اور ہمیشہ کیلئے ہوتی ہیں۔لیکن باوجود اس کے وہ بعض کے لئے خدا کے عذاب کی آواز ہوتے ہیں۔وہ خدا تعالٰی کا ایسا حکم ہوتے ہیں جو اٹل ہوتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا ایسا فیصلہ ہوتے ہیں کہ جس کے خلاف اپیل نہیں ہوتی۔جو اس رحمت کو قبول کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں وہ اسے پاتے ہیں اور فائز ہوتے ہیں۔لیکن جو اپنے آپ کو تیار نہیں کرتے اور غفلت میں پڑے رہتے ہیں وہ نقصان اٹھاتے ہیں۔تکلیفوں میں پڑتے ہیں۔اور خداتعالی کے غضب کے نیچے آجاتے ہیں۔جہاں خدا کا نبی آئے وہاں برکتیں بھی خاص طور پر نازل ہوتی ہیں۔عرب میں اگر رسول کریم تشریف لائے۔تو آپ کے ساتھ برکتیں بھی آئیں۔آپ رحمت للعالمین تھے آپ کے ساتھ آنے والی برکتیں بھی جہانوں کے لئے تھیں۔آپ کے آنے سے وہ ملک بابرکت ہو گیا۔وہ شہر بابرکت ہو گیا۔وہ مکان بابرکت ہو گیا۔بیت اللہ اللہ کا گھر بن گیا۔مگر صرف ان کے لئے جنہوں نے اس برکت کے لینے کے واسطے اپنے آپ کو تیار کیا۔اور اپنے آپ کو اس کے قابل بنایا۔اس زمانہ میں قادیان میں حضرت مسیح موعود آئے۔آپ نبی ہیں۔برکت اور رحمت آپ کے ساتھ آئی۔مگر صرف ان کے لئے جو اپنے تئیں اس کے پانے کے قابل بنائیں گے بے شک آپ کے آنے سے یہ ملک بابرکت ہو گیا۔مگر صرف ان کے لئے جو اس برکت سے فائدہ اٹھانے کے واسطے اپنے آپ کو تیار کریں گے۔بیشک یہ شہر با برکت ہو گیا اور خدا کی رحمت کی نزول گاہ بن گیا۔مگر اس کا فائدہ انہیں کو ہے جو اپنے آپ کو اس فائدہ کے حاصل کرنے کے لئے تیار کریں گے۔یہ مکان یہ بازار یہ دوسرے مقامات یہ مسجد یہ منبر اور اس کے خطیب سب بابرکت ہیں۔ان میں بڑی بڑی برکتیں ہیں۔ان کے ذریعہ اللہ تعالٰی کی رحمتیں حاصل ہو سکتی ہیں۔مگر کن کو اور کون ہیں جو ان رحمتوں اور برکتوں کو پاسکتے ہیں۔وہ وہی ہیں جو ان کیلئے اپنے آپ کو تیار کرتے ہیں۔جو اپنے برتن کو ان کے بھرنے کے واسطے کھلا کرتے ہیں۔لیکن جو ایسا نہیں کرتا اور غافل رہتا ہے۔وہ نہ برکتیں پاتا ہے نہ رحمتیں۔بلکہ دکھ اٹھاتا ہے اور عذاب محسوس کرتا ہے۔غرض خصوصیت ان مقامات کی ہے۔اس کا سے وہی فائدہ اٹھائے گا۔جو فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔اور جو کوشش نہیں کرے گا کوئی فائدہ اسے نہ دیا جائے گا۔یہ مسجد بڑی بابرکت ہے لیکن جو تذلل نہیں کرتا خواہ اس مسجد کے ستونوں کو پکڑ کر ابد آلا باد تک بیٹھا رہے کوئی فائدہ نہیں پائے گا۔قادیان کی رہائش کوئی تماشہ نہیں کہ اس کی قدر نہ کرو۔اگر