خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 549

خطبات محمود ۵۴۹ سال 1927ء کے سامنے ہوتے ہیں۔مصیبتیں اور تکلیفیں ان کی آنکھیں کھولنے کا باعث نہیں ہو تیں وہ ان پر اسی طرح گزر جاتی ہیں جس طرح تیل ملی ہوئی چیز پر سے پانی گزر جاتا ہے۔ان کے دل میں حد درجہ کا عجب غرور اور تکبر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ اپنے نفس اور اسباب کی طاقت پر نظر کر کے خدا کو بھول جاتے ہیں دوسرا وہ گروہ ہوتا ہے جو کبھی خوشی نہیں محسوس کرتا اور نہ صرف اپنے آپ کو بالکل بے بس اور مجبور سمجھتا ہے بلکہ خدا کو بھی ایسا ہی یقین کر لیتا ہے۔یہ دونوں گروہ سخت گمراہی اور ضلالت میں ہوتے ہیں۔اور دونوں ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا پائیں۔وہ گروہ جو عجب اور تکبر کرتا ہے اس کو تو خیال ہی نہیں آتا کہ کوئی ایسا خدا بھی ہے جو مجھے سزا دے سکتا ہے اور کوئی ایسا کام بھی ہو سکتا ہے جس میں مجھے اس کی مدد اور ہدایت کی ضرورت ہے۔اور وہ گروہ جو مایوس اور نا امید ہو جاتا ہے اس کو وہم بھی نہیں گزرتا کہ خدا تعالیٰ ایک ایسا سمارا ہے جو مجھے دکھ اور تکالیف سے بچا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان دونوں قسم کے لوگوں کا ذکر کرتا ہے۔فرماتا ہے انسان کے اندر پیدا ہونے والا پہلا وسوسہ اور اس کا ازالہ ولَقَدْ خَلقنا الإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ - ہم نے انسان کو پیدا کیا۔اور خوب جانتے ہیں کہ انسان کے اندر اس کا نفس کیسے کیسے وسوسے پیدا کرتا ہے۔دو قسم کے وسوسے انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ایک وسوسہ عجب اور تکبر کا اور خدا سے استغناء کا ہوتا ہے۔ہم اس کو خوب سمجھتے ہیں۔ایسی طبیعت والے انسان کو ہم ایک نسخہ بتاتے ہیں اور وہ یہ کہ وہ سمجھتا ہے میں خود ہی سب کچھ کر سکتا ہوں۔مجھے خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔لیکن کیا وہ نہیں جانتا کہ اس کا سارا زور اور قوت دماغ ہی پر منحصر ہے۔ورنہ انسان اور لکڑی میں کیا فرق ہے ؟ یہی کہ انسان میں دماغ ہے۔اور لکڑی میں نہیں۔مگر جانتے ہو دماغ کیا چیز ہے؟ اور کیوں کر اس میں قوت اور طاقت پائی جاتی ہے۔یہی دماغ مردہ میں بھی ہوتا ہے۔مگر کیا وہ اس سے کچھ کام لے سکتا ہے۔اس کے سامنے اسے کوئی ہزار گالی دے جو اب تک نہیں دے سکتا۔ایک چھوٹا بچہ بھی اگر اس کی ٹانگ کاٹ لے تو اسے ہٹا نہیں سکتا۔اس کا گھر کوئی لوٹ لے تو اسے روک نہیں سکتا۔دماغ تو اس میں بھی موجود ہوتا ہے۔پھر وہ کیا چیز ہے جو اس میں نہیں ہوتی اور جس کے نہ ہونے کی وجہ سے وہ دماغ سے کوئی کام نہیں لے سکتا۔یہی کہ دل سے دماغ تک جو سلسلہ قائم ہوتا ہے وہ ٹوٹ جاتا ہے اور دل سے جو خون دماغ کو پہنچ رہا ہوتا ہے وہ رک جاتا ہے۔چنانچہ عارضی