خطبات محمود (جلد 11) — Page 546
سال 1927ء ۵۴۶ خطبات محمود کوشش کرتے ہیں۔ مگر پھر بھی اتنے بڑے ہجوم کے انتظام میں وہ کہاں پورے اتر سکتے ہیں۔ اگر کسی گھر میں ایک مہمان آجائے اور اس کام کرنے والے ہوں تو بھی کئی کو تاہیاں ہو جاتی ہیں۔ مگر جہاں ایک کام کرنے والا ہو اور دس مہمان ہوں وہاں کی کیا صورت ہونی چاہئے۔ لیکن جس طرح آپ لوگوں کی خدمت کرنے والا والوں کو اس بات کا مزا آتا ہے کہ جتنا زیادہ بوجھ ار ادہ بوجھ ان پر پڑے اتنی ہی زیادہ خوشی سے اٹھائیں۔ اسی طرح آپ لوگوں کو بھی اگر کوئی تکلیف ہو تو اس تکلیف کو عین راحت سمجھنا چاہئے۔ کیونکہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہر نعمت کے ساتھ تکلیف بھی ہوا کرتی ہے۔ کچھ عرصہ ہوا مجھے ایک شخص ملا۔ میں نے اسے کہا آپ قادیان کیوں نہیں آتے کہنے لگا قادیان کے رستہ میں یکہ کے دھکے ایک بہت بڑا ابتلاء ، بڑا ابتلاء ہے۔ مجھے خیال آیا عجیب انسان ہے اس کو رستہ کے دھکے ہی بہت بڑا ابتلاء معلوم ہوتے ہیں اگر جلسہ پر آکر دیکھے تو اسے پتہ لگے کہ یہاں کسی مزے اور کس لطف سے دیے دھکے کھائے جاتے ہیں۔ آخر اس کا انجام کیا ہوا یہ کہ اختلاف کے وقت مرتد ہو گیا اور یہاں تک اس نے کہہ دیا کہ مرزا صاحب کی تین سو غلطیاں میں نے نکالی ہیں۔ لیکن یہ مرزا صاحب کی تین سو غلطیاں نہ تھیں بلکہ یہ تین سو دھکے تھے جو قادیان نہ آنے کی وجہ سے اسے لگے۔ قادیان کے رستہ کے دھکے تو جسم کو ہی تکلیف پہنچانے والے تھے مگر ان دھکوں نے اس کی روح کو چور چور کر دیا ۔ تو جہاں میں نے جلسہ کے موقع پر خدمت اور کام کرنے والوں کو نصیحت کی ہے اور اب بھی کرتا ہوں کہ اپنے آنے والے بھائیوں کو آرام اور آسائش پہنچانے کی پوری پوری کوشش کریں۔ وہاں آنے والے دوستوں کو بھی کہتا ہوں کہ اگر انہیں کوئی تکلیف ہو تو یہی نہیں کہ صبر کریں بلکہ یہ کہ اس سے مزا محسوس کریں۔ کیونکہ محبت میں جو چیزیں بھی ملتی ہیں ان میں بڑا مزا ہوتا ہے۔ لقمان کے متعلق لکھا ہے کہتے ہیں آپ ابتدا میں کسی شخص کے ملازم تھے لیکن اس شخص کو آپ سے بہت محبت تھی حتی کہ عشق تک نوبت پہنچی ہوئی تھی۔ ایک دفعہ اس کے پاس بے موسم کا خربوزہ آیا۔ اس نے ایثار اور محبت سے لقمان کو پھانک دی۔ انہوں نے وہ اس طرز سے کھائی کہ چہرہ سے معلوم ہوتا تھا کہ بہت مزا آرہا ہے۔ اس نے یہ دیکھ کر ایک اور پھانک دی انہوں نے اسے اور بھی مزے سے کھایا۔ پھر اس نے اور دی۔ آخر اس کو خیال آیا کہ یہ اتنا مزے لے لے کر اس خربوزہ کو کھا رہا ہے یہ خربوزہ نہایت مزیدار ہو گا میں بھی چکھوں۔ یہ خیال کر کے اس نے ایک