خطبات محمود (جلد 11) — Page 532
خطبات محمود ۵۳۲ سال ۱۹۲۸ء اس کے علاوہ قوانین قدرت کا بھی دخل ہوتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے پہلو سے بچنے کا یہی طریقہ ہوتا ہے کہ انسان اور بھی زیادہ قربانیاں کرے اور ثابت کرے کہ وہ خود ہی خدا کے راستہ میں مٹ رہا ہے۔اس پر خدا تعالی کو غیرت آتی ہے کہ جو پہلے ہی میرے لئے مر رہا ہے اسے کیا ماروں اس لئے وہ اسے مٹاتا نہیں بلکہ زندہ کرتا ہے۔مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے۔میں نے ایک کشتی رکھی ہوئی تھی بعض دفعہ تو وہ زنجیر سے باندھ دی جاتی تھی لیکن بعض دنوں میں جب پانی تھوڑا ہو تا تھا کھلی رہتی تھی اور بعض لڑکے اسے لے جاتے تھے اور ایسی بری طرح استعمال کرتے تھے کہ توڑ پھوڑ دیتے تھے۔ایک دفعہ اسے بہت ہی نقصان پہنچا اس پر میں نے بورڈنگ کے لڑکوں سے کہا کہ خیال رکھا کریں جب کوئی اسے لے جائے تو مجھے بتائیں۔ایک دن مجھے اطلاع دی گئی کہ گاؤں کے لڑکے کشتی لے گئے ہیں میں گیا اور انہیں آواز دی وہ کشتی لے آئے۔مجھے بہت غصہ تھا اس لئے میں نے ایک لڑکے کو مارنا چاہا اور میں سمجھتا ہوں اگر وہ مقابلہ کرتا تو غصہ اور بھی بڑھ جاتا لیکن اس نے نہایت انکسار سے کہا لوجی مار لو۔اس کے یہ الفاظ سن کر میرا ہاتھ جو مارنے کے لئے اٹھا تھا گویا شل ہو گیا او مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔میں نے سوچا جو خود کہتا ہے مار لو اسے کیا ماروں۔تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص کے الہی قحط پڑا ہوا ہے اور ہر طرف تباہی کے آثار نمایاں ہیں مگر ہمارے پاس جو کچھ ہے ہم تیرے لئے خرچ کر رہے ہیں تو خدا تعالٰی اسے تباہ ہونے دے وہ تو کہے گا کہ تمہیں ماروں گا نہیں بلکہ زندہ کروں گا۔اس وقت تنگی کے آثار ظاہر ہیں۔پس جو بھی قربانی کرے گا وہ اپنے اوپر ایک موت وارد کرے گا مگر جو بھی خدا کے لئے اپنے اوپر موت وارد کرتا ہے خدا اسے مرنے نہیں دے گا۔اس وقت بارش ہو رہی ہے ممکن ہے خدا اسے ہی لوگوں کی تکلیف کم کرنے کا ذریعہ بنا دے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش تباہی کا موجب بھی ہوتی ہے اور ترقی کا بھی اس لئے ہم کہہ تو نہیں سکتے کہ یہ کیسی ہے مگر چونکہ انہی دنوں میں چندہ کی تحریک کی گئی ہے ہو سکتا ہے خدا تعالی نے بعض لوگوں کی قربانیاں قبول کر کے رحمت کی بارش نازل کی ہو۔پچھلے سال غلہ نہیں ہوا۔لیکن ہو سکتا ہے خدا تعالیٰ اگلے سال اڑھائی تین گنا زیادہ غلہ کر دے اور سب کسر نکل جائے اور یہ سب کچھ خدا کے اختیار میں ہے۔پس گو مجھے دوبارہ کہنے کی ضرورت تو نہیں مگر کمزوروں کے لئے یا اس خیال سے شاید بعض