خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 533

خطبات محمود ۵۳۳ سال ۱۹۲۸ء لوگوں تک یہ آواز ابھی نہ پہنچی ہو دوبارہ تحریک کرتا ہوں ورنہ مؤمن کے لئے نہ میرے کہنے کی ضرورت ہے نہ کسی اور کے کہنے کی۔اس کے بعد میں کام کرنے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ بہت سوچ سمجھ کر خرچ کریں۔کوئی وجہ نہیں کہ دنیا میں دوسرے لوگ اخراجات کی کمی کی صورت تو نکال سکیں مگر ہماری عقل ایسی دیوالیہ ہو کہ ہم کوئی صورت نہ نکال سکیں اس لئے جہاں میں دوستوں اور خصوصاً قادیان اور ضلع گورداسپور کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ باقی چیزیں نہیں تو کم از کم آئے کا خرچ ہی برداشت کریں۔وہاں کارکنوں کو بھی مزید توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اخراجات میں کمی کرنے کی کوشش کریں۔آٹے کا خرچ برداشت کرنا ادنی ترین مہمان نوازی ہے کیونکہ روٹی کھانے کے بغیر تو کوئی شخص زندہ نہیں رہ سکتا اس کے ساتھ اگر وال یا سالن کو زائد سمجھ لیا جائے تو کم سے کم جو مہمان نوازی آٹے کی ہے یہ تو ہمیشہ ہی قادیان اور ضلع گورداسپور کے دوستوں کو پیش کرنی چاہئے۔اگر اس ضلع میں دس ہزار احمدی بھی ہوں تو دس ہزار کے لئے بیس ہزار کے آٹے کا انتظام کیا مشکل ہے۔مگر سارے آدمیوں سے کام لینا مشکل ہوتا ہے۔اگر ان تمام لوگوں سے با قاعدہ وصولی کا انتظام کیا جائے تو بہت زیادہ خرچ ہو جائے گا اس لئے یہ نہیں ہو سکتا جب تک دوست خود توجہ نہ کریں۔یہ کام اپنے طور پر کرنے سے ہی ہو سکتا ہے۔اگر دوست ہمت کریں تو کوئی بڑی بات نہیں۔دوسرے اخراجات باقی جماعتیں مہیا کر دیں گی۔باقی سب کاموں کو چلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔اس سے دعا کرنی چاہئے کہ قحط بھی تیری طرف سے ہیں اور کام بھی تیرے ہی ہیں اس لئے تو ہی اپنے فضل سے ہمارے لئے راستے کھول دے۔آمین۔مشكوة كتاب الطب والرقی باب الحب في الله و من الله بخاری باب کیف كان بدء الوحی الی رسول الله الله الفضل ۷ / دسمبر ۱۹۲۸ء)