خطبات محمود (جلد 11) — Page 500
۵۰۰ سال ۱۹۲۸ء ہے یہ نہیں دیکھتا کہ کوئی اس کی راہ میں زیادہ دیتا ہے یا تھوڑا دیتا ہے۔اگر اللہ تعالی کا دین روپوؤں کا ہی محتاج ہوتا تو آسمان سے تھیلیاں اتارتا۔پس عورتوں کو چاہئے کہ اپنے پاس سے دیں خواہ وہ کتنا ہی قلیل ہو۔ہاں اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی بچہ شوق سے دینا چاہے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو تو اسے ماں باپ دے دیں اس میں کوئی حرج نہیں۔عورتوں کے پچھلے ہی درس میں میں نے دیکھا ایک بچہ نے اپنی ماں سے ایک پیسہ مانگ کر چندہ میں دیا۔اس سے چندہ میں تو کوئی اضافہ نہ ہوا مگر اس میں اخلاص کی روح پیدا ہو گئی۔مخالف تو اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احمدی چندے دیتے دیتے اکتا گئے ہیں اور اب چندوں سے بچنا چاہتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ نے ہماری جماعت کو جو اخلاص عطا کیا ہے وہ ایسا ہے؟ کہ اس کی نظیر کہیں نہیں مل سکتی۔میں نے ایک خاص امر کے متعلق چندہ کی تحریک کی تھی اور ابھی اسے شائع نہیں کیا تھا کہ بعد میں شائع ہو جائے گی۔پندرہ ہزار کے لئے میں نے چند دوستوں کو یہ تحریک کی تھی اور پچاس، سو دو سو تین سو کی رقمیں مقرر کی تھیں۔میں نے دیکھا ہے کہ اس تحریک کو اتنا مخفی رکھنے کے باوجود چار دوست تو ایسے ہیں جو رقوم بھیجنے کا وعدہ کر چکے ہیں اور بعض نے رقوم بھیج بھی دی ہیں اور ساتھ شکایت بھی کی ہے کہ آپ نے ہمیں کیوں اس تحریک کی خبر نہ دی۔ان آدمیوں میں جنھوں نے روپیہ بھیجنے کا بطور خود وعدہ کیا ہے دو ایک ہی جگہ کے ہیں اور ایسے ہیں جن کے رشتہ داروں کو یہ تحریک بھیجی گئی تھی۔انھوں نے ان سے سن لی اور اس طرح شرکت اختیار کرلی۔لیکن ہو سکتا ہے کہ اور بھی ایسے مخلص ہوں جنھیں اس تحریک کا علم نہ ہونے کا گلہ ہو۔اگر چہ میں نے اخلاص کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس لئے کہ ان سب کے نام اور ان کے حالات سے کہاں مجھے واقفیت ہو سکتی ہے جو نام مجھے یاد آئے اور جن کے حالات کا مجھے علم تھا انھیں لکھا تھا۔تاہم چونکہ اس بارے میں شکوہ پیدا ہوا ہے اس لئے میں اعلان کرتا ہوں کہ جو دوست اس تحریک میں حصہ لینا چاہیں وہ مجھے لکھ دیں ان کو بھی شمولیت کا موقع دیا جائے گا۔مجھے ان احباب کے اخلاص کو دیکھ کر خوشی بھی ہوئی اور ساتھ رشک بھی پیدا ہوا کہ ایک مخفی تحریک کی جاتی ہے اس پر وہ اس لئے خوش نہیں ہوتے کہ انھیں تحریک میں شمولیت کے لئے نہیں کہا گیا بلکہ وہ خود بخود اس میں حصہ لیتے ہیں اور نہ صرف حصہ لیتے ہیں بلکہ شکوہ کے خطوط لکھتے ہیں کہ ہمیں اس قابل کیوں نہیں سمجھا گیا کہ ہمیں بھی اس میں شمولیت کا موقع دیا جاتا۔ایک خط پڑھ کر تو بہت ہی لطف آیا جو ایک طالب علم نے لکھا۔وہ لکھتا ہے غیر