خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 44

خطبات محمود۔هم بم سال 1927ء چاہئے کہ جس بات نے اس کو یہاں فائدہ نہ دیا جس سے اس کو اس جگہ کوئی ترقی نہ ہوئی۔اس سے اس کو کیا امید ہو سکتی ہے کہ مرنے کے بعد قیامت کے دن کچھ ترقی ہوگی۔کیونکہ مرنے کے بعد کی ترقی اس کے انہی اعمال اور عقائد اور ایمان پر ہے۔جو اس جہان میں ہوں گے۔اور اگر ان میں اس جگہ کوئی ترقی نہیں تو قیامت کے دن اسے کہاں ترقی مل سکتی ہے۔پس ایسے شخص کو یہیں سے اپنی آئندہ کی حالت پر قیاس کرنا چاہئے۔اور اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ جو پہلی منزل طے نہیں کر سکا۔وہ دوسری منزل کیسے طے کر سکتا ہے۔ایک مومن اور سچا مومن ایک دن کی دعا کا اثر دوسرے دن دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ اسی دن کی دوسری نماز میں دیکھتا ہے۔پھر ایک نماز کی دعا کا اثر دوسری نماز میں دیکھنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ ایک رکعت کی دعا کا اثر دوسری رکعت میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ کیا وہ قبول ہوئی یا نہیں۔اور اس نے کیا اثر پیدا کیا۔پہلی حالت اور اس حالت میں کس قدر فرق پیدا ہوا۔کہاں تک ترقی ہوئی لوگ گورنمنٹ کے حکام کے پاس عرضیاں لے کر جاتے ہیں اور وہاں گھنٹوں بلکہ پہروں انتظار کرتے ہیں لیکن خدا کے گھر کوئی انتظار کرنا نہیں پڑتا۔ہاں جن امور کے اس نے اوقات مقرر کر رکھے ہیں ان میں انتظار کرنا پڑتا ہے۔اور وہ اپنی مدت معینہ پر ہوتے ہیں۔مثلاً کوئی شخص بچہ کیلئے دعامانگتا ہے۔اب اگر اس کی دعا قبول ہو جائے تو یہ نہیں ہو گا کہ اس وقت بچہ پیدا بھی ہو جائے۔اس کے لئے اگر زیادہ نہیں تو کم از کم نو سوانو مہینہ کا عرصہ لگے گا۔کیونکہ بچہ کی پیدائش کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اتنا عرصہ لیکر دنیا میں آئے۔پس صرف ان امور میں جن میں خدا نے وقت مقرر کر رکھا ہے۔مقررہ وقت تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔اور باقی سب میں کوئی انتظار نہیں۔اور وہ اکثر دعا کے ساتھ ہی مل جاتے ہیں۔چنانچہ علم اور عقائد وغیرہ ہیں۔یہ الہاما ملتے ہیں اور اسی وقت نازل ہوتے جاتے ہیں جس وقت ان کے لئے دعا کی جاتی ہے۔متواتر تجربہ کیا گیا کہ ابھی دو رکعت ختم نہیں ہوتی۔جس میں ایسی دعا کی جاتی ہے کہ بہت سے حقائق و معارف کا انکشاف ہو جاتا ہے۔اور کئی دفعہ تو ایسا بھی ہوا ہے کہ اگر دعا ٹھیک طور پر کی جائے تو پیشتر اس کے کہ سجدہ سے سر اٹھایا جائے۔سورۃ کی سورة کے مطالب ظاہر ہو گئے ہیں۔اگر کسی انسان کی دعا مضبوط نہ ہو اور جلدی اثر نہ کرے۔تو کم از کم یہ تو چاہئے کہ دوسری نماز تک ہی فرق پڑ جائے۔اگر یہ بھی نہیں تو کم از کم دوسرے دن تک ہی فرق پیدا ہو جائے۔اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ اس سے بھی زیادہ اس کی دعا کمزور تھی تو کم زکم ایک ہفتہ کی دعاؤں کے نتیجہ میں