خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 492

خطبات محمود ۴۹۲ سال ۱۹۲۸ء تیاری کرنے کے لئے وقفہ کی ضرورت ہے ہتھیار ڈال دے اور پھر طاقت حاصل کر کے لڑائی شروع کر دے غرض کئی وجوہ ہو سکتی ہیں۔اور جب کوئی دشمن ہتھیار ڈال دے اس پر ہمارا مطمئن ہو جانا آئندہ بہت سی مشکلات کا باعث ہو سکتا ہے لیکن جہاں بعض ظاہری تکلیفیں پیدا ہو سکتی ہیں وہاں اس کے ساتھ بعض اخلاقی فتوحات بھی لگی ہوئی ہیں۔وہ انسان جو اللہ تعالٰی کے لئے اپنے جوشوں کو دباتا ہے اگر کسی بات میں دنیا کی نظروں میں حقیر بھی ہو جائے تو اللہ تعالٰی اس کی عزت اور بڑھا دیتا ہے۔پس گو بظاہر اس حکم کے ساتھ شکست لگی ہوئی ہے مگر ایک بہت بڑی فتح بھی ہے اور وہ اخلاقی اور مذہبی فتح ہے۔پچھلے دنوں سے ہماری بھی ایک جنگ جاری تھی اور غیر مبائعین کے ساتھ تھی۔انھوں نے معاہدہ کر کے تو ڑا اور متواتر " پیغام میں ایسے مضامین نکلے جن کی غرض کسی مسئلہ کو ثابت کرنا تھی بلکہ لوگوں کی نظروں میں ہمیں گرانا اور ہمارے خلاف جذ بہ نفرت بھڑکانا تھا۔ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مولویوں کے متعلق فرماتے کہ یہ لوگ مسائل کے متعلق بحث نہیں کرتے ان کی غرض یہ نہیں ہوتی کہ لوگوں کے سامنے حق ظاہر ہو بلکہ یہ ہمارے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کے لئے مباحثات کرتے ہیں۔اور فرماتے ایک عورت تھی جو باہر کام کاج کرتی تھی ایک شخص جب اس کے پاس سے گذر تا تو اسے سلام کرتا اور وہ اسے گالیاں دینا شروع کر دیتی۔ایک دن کسی نے کہا یہ کیا ہے ؟ وہ تو تمہیں سلام کہتا ہے اور تم اسے گالیاں دیتی ہو۔اس نے کہا یہ مجھے سلام کی خاطر سلام نہیں کرتا بلکہ چڑانے کے لئے سلام کہتا ہے کیونکہ یہ کہتا ہے ”بھابی کانی سلام" اس کی غرض سلام کرنا نہیں ہوتی بلکہ یہ ہوتی ہے کہ سلام کے پردے میں مجھے کانی کے۔اس کے متعلق تو واقعہ موجود تھا وہ عورت کافی تھی۔مگر ایسا بھی ہوتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے متعلق فرماتے کہ لوگوں کو بھڑ کانے اور اشتعال دلانے کے لئے آپ کے خلاف اعتراضات کئے جاتے یہی حال غیر مبائعین کا تھا۔مثلاً جب پچھلے سال اتحاد کی تحریک کی گئی تو پیغام صلح میں بار بار اس قسم کے مضامین لکھے گئے کہ میاں صاحب نے کفر کا مسئلہ چھوڑ دیا ہے۔اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ میں پھر اعلان کروں کہ کفر و اسلام کا مسئلہ قائم ہے اور وہ مسلمانوں کو بھڑکا ئیں کہ ان کے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے حالانکہ غیر مبائعین کا ہندوؤں اور عیسائیوں سے تعلق ہو سکتا ہے حتی کہ دیو بندیوں سے مل کر وہ کام کر سکتے ہیں مگر ہمارے ساتھ مسلمانوں کا مل کر کوئی کام کرنا انہیں