خطبات محمود (جلد 11) — Page 491
خطبات محمود ۴۹۱ سال ۱۹۲۸ مو وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا فرموده ۱۲/اکتوبر ۱۹۲۸ء) تشهد تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں ہر مسئلہ زندگی کے لئے کچھ قوانین مقرر فرمائے گئے ہیں اور اپنے پیروؤں کے لئے رہنمائی کا سامان کیا گیا ہے۔پس ہر ایک مسلمان کو ہر موقع پر ٹھر کر یہ دیکھ لینا چاہئے کہ جس معاملہ کو وہ شروع کرنے والا ہے اس کے متعلق اسلام کی کیا ہدایت ہے۔وہ آزاد نہیں کہ جس طرح چاہے کوئی کام کرے۔اس کا دوستانہ بھی بعض احکام کے ماتحت ہے اور اس کی دشمنی بھی بعض احکام کے ماتحت ہے۔اس کا دفاع بھی بعض احکام کے ماتحت ہے اور اس کا حملہ بھی بعض احکام کے ماتحت ہے۔اس کی تعریف بھی بعض احکام کے ماتحت ہے اور اس کی مذمت بھی بعض احکام کے ماتحت ہے۔اس کی محبت بھی بعض احکام کے ماتحت ہے اور اس کی نفرت بھی بعض احکام کے ماتحت ہے۔غرض اس کی ہر چیز بعض احکام کے ماتحت ہے اور ان احکام سے آزاد ہو کر وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔جب تک وہ مسلمان کہلاتا ہے جب تک وہ اپنے آپ کو اسلام سے وابستہ کرتا ہے اس وقت تک ان احکام کی اطاعت اور فرماں برداری کرنا اس کے لئے ضروری ہو گا۔مختلف شعبہ ہائے زندگی کے متعلق اسلام نے جو احکام بیان فرمائے ہیں ان میں سے ایک حکم لڑائی کے متعلق بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ جس وقت دشمن لڑائی چھوڑ دے تو تم بھی لڑائی چھوڑ دو۔بظاہر یہ حکم بڑا سخت معلوم ہوتا ہے ہو سکتا ہے کہ ایک دشمن دیر تک حملہ کرتا رہے اور جب بہت کچھ نقصان پہنچا دے تو پھر ہتھیار ڈال دے یا ہو سکتا ہے کہ ایک دشمن دیکھے وہ ظاہر میں مقابلہ نہیں کر سکتا اس لئے مقابلہ مخفی کر دے اور ظاہر میں ہتھیار ڈال دے۔اسی طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن اس خیال سے کہ اسے نئے سرے سے