خطبات محمود (جلد 11) — Page 477
خطبات محمود ۴۷۷ سال : ۶۱۹۲۸ میں روزانہ بیسیوں دفعہ یہ الفاظ ہی جمعہ میں اس بات پر تقریر کی تھی کہ ذلت اور عزت خدا تعالی کی طرف سے آتی ہے۔ اور دہراتا ہوا ۔ کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں کہ پبلک او پینین (Public Opinion) یعنی رائے عامہ کوئی ایسی عظیم الشان چیز ہے جس کے بغیر ہمارا گزارا ہی نہیں ہو سکتا۔ بے شک یہ ایک زبر دست چیز ہے جسے قوموں کی ترقی اور تنزل میں بڑا دخل ہے اور جس وقت یہ انسانوں کی تدبیروں کے بغیر قائم ہو تو یہ خدا تعالیٰ کی مرضی کا اظہار کرنے والی ہوتی ہے یہ اس حالت کے لئے بطور ٹمپر پچر کے ہوتی ہے جو آسمان سے زمین پر پیدا کی جاتی ہے۔ اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي الْأَرْضِ ، یعنی جب خدا تعالیٰ کسی کو عزت دینا چاہتا ہے تو آسمان پر اس کا فیصلہ کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ فرشتوں کے ذریعہ اس کی قبولیت زمین پر اتارتا ہے۔ پس رائے عامہ جب کہ مخالف حالات میں پیدا ہوتی ہے خدا کی مرضی کا اظہار کرنے والی ہوتی ہے اور وہ حقارت کے قابل نہیں ہوتی مگر بایں ہمہ وہ اس قدر عظیم الشان نہیں کہ اس کے مقابلہ میں سب کچھ نظر انداز کیا جا سکے ۔ جس چیز پر ہم کلی طور پر انحصار کر سکتے ہیں اور جس پر ہمیں پورا را پورا اعتماد اور تو کل ہو سکتا ہے وہ صرف اور صرف استعانت الہی ہے وہ ہمارا یہ فعل ہے کہ ہم خدا تعالی سے مدد مانگیں اور خدا تعالیٰ کا یہ فعل ہے کہ ہماری دعائیں قبول فرمائے۔ پس اس میں کچھ شبہ نہیں کہ ان شبہات اور الزامات بلکہ میں کہتا ہوں کہ ان جھوٹوں اور انتراؤں کو دور کرنا جو مخالف پارٹی ہم پر لگا رہی ہے ہمارا مذہبی فرض ہے اور جو اس کے پہچاننے میں کو تاہی کرتا ہے وہ خدا کا مجرم ہے۔ پھر جو اس کی اہمیت کو گراتا ہے یا جو اس فرض کو پہچاننے والوں کی ناقدری کرتا ہے وہ بھی خدا کا مجرم ہے۔ لیکن ساتھ ہی اس فرض کو انتہاء سے آگے لے جانا بھی غلطی ہے۔ جس مقصد اور جس کام کے لئے ہم دنیا میں کھڑے کئے گئے ہیں وہ روحانیت اور اخلاق کا قائم کرنا ہے۔ اور اگر ہم انھیں قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پھر دنیا کی رائے عامہ کے ہم محتاج نہیں۔ اس لئے نہیں کہ وہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی بلکہ اس لئے کہ اس صورت میں وہ ہمارے تابع ہو جائے گی کیونکہ جو شخص خدا کا ہو جاتا ہے دنیا اس کے پیچھے چلتی ہے۔ دنیا میں کب ایسا ہوا کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کے احکام کی اتباع کے لئے کھڑا ہوا ہو اور دنیا اسے تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہو۔ میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بتایا تھا کہ دنیا نور کو نہیں مٹا سکتی۔ وہ شخص مٹ سکتا ہے جس کے ذریعہ نور پھیلایا جا رہا ہو