خطبات محمود (جلد 11) — Page 472
خطبات محمود ۴۷۲ سال ۶۱۹۲۸ بجھے گی جب اندر سے بجھائی جائے گی۔ اسی طرح بیرونی کوششیں بھی ان بہادروں کو نقصان نہیں پہنچا سکتیں۔ جن کے اندر خدا تعالٰی عزت پیدا کرتا ہے خدا تعالی فرماتا ہے۔ يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمُ (الصف (۹) لوگ اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں۔ واللهُ مُتِمُّ نُودِہ لیکن جس نے یہ نور پیدا کیا ہے وہی اسے مٹائے تو مٹ سکتا ہے اور کسی میں اس کے مٹانے کی طاقت نہیں۔ اگر ساری دنیا مل کر تمام سمندروں کا پانی سورج پر ڈالے تو کیا سورج لی سورج کے مٹ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ اسی طرح خدا کے پیدا کردہ نور کو بجھانے کے لئے اگر ساری دنیا بھی کھڑی ہو جائے تو نہیں بجھا سکتی۔ تو اس شخص کی نادانی تھی جس نے کہا میں اسے مٹا دوں گا۔ اور نادانی اس لئے پیدا ہوئی کہ ا کہ اس نے سمجھا عزت انسان بناتا ہے۔ وہ جو اپنے آ۔ اپناتا ہے۔ وہ جو اپنے آپ کو دین کا بڑا عالم سمجھتا تھا اس نے خیال کیا ہیرے جو جو ہری بناتے ہیں حالانکہ میرے پیدا کرنا خدا ا کر نا خدا تعالی کا کام ہے۔ ہاں کچھ میرے انسان توڑ سکتا ہے لیکن کچھ ہیرے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کا توڑنا بھی خدا تعالیٰ نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھا ہوتا ہے۔ جب اس نے یہ کہا تو عزت دینے والے نے بھی یہ نار شد فرمایا۔ إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَا نَتَكَ உ یہ اس دعوی کا جواب تھا جو اس نے ذلیل کرنے کے متعلق کیا تھا۔ اس کے معنی یہی ہیں کہ لوگ تیری اہانت کر نہیں سکتے ہاں وہ اس کا ارادہ کر سکتے ہیں لیکن جو ارادہ بھی کرے گا۔ میں اسے ذلیل کر دوں گا چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ساری دنیا کے لوگ پھونکیں مارتے رہے لیکن وہ روشنی بھی۔ ہاں انہوں نے اپنے آپ کو بیوقوف ثابت کر دیا۔ اور اور وہ و ان بندروں سے بھی زیادہ ناران ثابت ہوئے جنہوں نے جگنو کو آگ سمجھ کر پکڑ لیا تھا کہ اس سے آگ جلائیں گے۔ وہ اس پر لکڑیاں رکھ کر ساری رات پھونکیں مارتے رہے مگر وہ جگنو تھا اس لئے آگ نہ جل سکی حتی کہ صبح ہو گئی۔ ان بندروں نے بھی بیوقوفی کی لیکن اپنے فائدے کے لئے کی لیکن ان نادانوں نے نور بجھانے کی سعی کی اس لئے یہ ان بندروں سے بھی بدتر ہوئے۔ بندروں نے کسب نفع کے لئے مگر انہوں نے اپنی جانوں کو ہلاک کرنے کے لئے کی۔ چونکہ عزت کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اس لئے وہ کہاں مٹ سکتی تھی وہ نامراد ہوئے اور اللہ نے دنیا کو یہ بھولا ہوا سبق جسے مسلمانوں نے کئی سو سال ۔ و سال سے بھلا رکھا تھا یاد دلا دیا کہ تُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ (ال عمران (۲۷) خدا تعالٰی نے یہ سبق پھر دوبارہ تازہ کیا اور ثابت کر دیا کہ عزت دینا یا ذلیل کرنا خدا