خطبات محمود (جلد 11) — Page 451
۴۵۱ سال ۱۹۲۸ء ہوئی جائز تھی۔یوں تو پہلے بھی مسائل پر ہی بحث ہوتی تھی سوال یہ تھا کہ دوسرے کو ذلیل کرنے اور لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکانے کی کوشش نہ کی جائے۔اب یہ دیکھا جائے گا کہ اسی طرح کیا گیا یا نہیں ؟ مسائل کی بحث میں شرعی دلائل سے کام لیا گیا یا لوگوں کو اشتعال دلایا گیا۔اب دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے حضرت مسیح نے مردے زندہ نہیں گئے۔اس پر مولوی کہا کرتے تھے مرزا صاحب منجزات کے منکر ہیں۔کیا یہ بحث ان کی جائز تھی یا صرف لوگوں کے بھڑکانے کے لئے تھی۔یہ محض بھڑ کانے کے لئے تھی۔پس دیکھتا یہ ہے کہ جو بحث کی گئی وہ بھڑ کانے کا پہلو رکھتی ہے یا نہیں۔اس اصل کے ماتحت مسائل کی بحث دیکھی جائے گی۔پہلے بھی یہی بحث کا رنگ تھا جس کی وجہ سے معاہدہ کیا گیا تھا اور نہ صرف ذات پر حملے پہلے بھی نہیں کئے جاتے تھے۔باقی زبانی باتوں کے متعلق میرے پاس کوئی اطلاع نہیں پہنچی لیکن اس کے مقابلہ میں مولوی صدر الدین صاحب اور میر مدثر شاہ صاحب کے متعلق پشاور کی جماعت نے لکھا کہ وہ کہتے ہیں برلن کی مسجد کا روپیہ آپ کھا گئے ہیں اور یہ جو کہا گیا ہے کہ حکومت نے شرط لگائی تھی کہ اگر اس قسم کی عمارت نہ بناؤ گے تو عمارت گرادی جائے گی یہ جھوٹ بولا ہے لیکن خدا کی قدرت ان لوگوں کو خود بخود جواب مل گیا۔انھوں نے جو برلن میں مسجد بنائی اس کے متعلق اسی قسم کا نوٹس ان کو ملا اس کی وجہ سے انھوں نے دنیا کے بادشاہوں کو چٹھیاں لکھیں کہ مدد کی جائے ورنہ مسجد گرا دی جائے گی۔جب ان کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو انھوں نے عربی ترکی اور فارسی میں اعلان چھوا کر بھیجے کہ چندہ بھیجو ورنہ مسجد گرا دی جائے گی۔یہ اعلان میرے پاس موجود ہے۔گویا خدا نے ان لوگوں کو ان کے اعتراضوں کا جواب دے دیا۔میں نے اس اعلان کو بھی شائع نہ ہونے دیا جو میرے پاس جرمنی سے پہنچ چکا تھا اور اب تک ہے۔ای طرح مولوی صدر الدین صاحب نے بیان کیا کہ مسجد لنڈن کی جو شہرت کر رہے ہیں کہ ایسی ایسی بن گئی ہے یہ بھی جھوٹ ہے۔اسی طرح میر مدثر شاہ صاحب نے روپیہ کھا جانے کے الزام لگائے۔اس پر جماعت پشاور نے مباہلہ کی اجازت مانگی یہ واقعات ہیں جن سے شاید مولوی صاحب نتیجہ نکالتے ہیں۔ان کی طرف سے تو خاموشی رہی مگر ہماری طرف سے ان کے خلاف پرو پیگنڈا ہو تا رہا۔قاضی محمد یوسف صاحب کے متعلق میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت تک کہ دوبارہ