خطبات محمود (جلد 11) — Page 427
خطبات محمود ۴۲۷ سال ۱۹۲۸ء ایک نقطہ پر جمع ہونے میں سنیوں اور دوسرے مسلمانوں کو کیا عذر ہو سکتا ہے۔پھر کیا ہندو اس لئے اسلام پر حملہ کرتے ہیں کہ مسلمان حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ کیوں مانتے ہیں۔اگر ان کا حملہ اس وجہ سے ہوتا تو ہر ایک احمدی کہہ سکتا تھا کہ جاؤ تم ان سے لڑو ہمیں لڑنے کی کیا ضرورت ہے ہم تو حضرت عیسی کو فوت شدہ مانتے ہیں۔مگر یاد رکھو کوئی ہندو اور کوئی عیسائی ان اختلافات کی وجہ سے حملہ نہیں کرتا جو احمدیوں اور اہلحدیثوں میں یا سنیوں اور شیعوں میں پائے جاتے ہیں بلکہ ان مسائل کی وجہ سے حملہ کرتا ہے جو احمدی ، غیر احمدی ، شیعہ ، سنی ، اہلحدیث رافضی خارجی غرض کہ اسلام کے تمام فرقوں میں مشترک ہیں اور وہ یہ ہیں کہ محمد خدا تعالٰی کے راست باز انسان تھے اور آپ جو تعلیم لائے وہ ساری دنیا کے لئے ہے۔اور کون ہے جو مسلمان کہلاتا ہو مگر رسول کریم ﷺ کو راست باز نہ مانتا ہو اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کو ساری دنیا کے لئے نہ سمجھتا ہو۔پھر مخالفین اسلام اس لئے حملہ کرتے ہیں کہ مسلمان خدا کی توحید کے قائل ہیں اور کوئی مسلمان ہے جو توحید کا قائل نہ ہو۔پھر وہ اس لئے حملہ کرتے ہیں کہ مسلمان قرآن کو خدا کا کلام سمجھتے ہیں کیا کوئی مسلمان ہے جو اس کا انکار کرتا ہو ؟ پھر سب مسلمان مل کر کیوں مخالفین اسلام کا مقابلہ نہ کریں۔اسلام کے مٹنے سے احمدیوں کا ہی نقصان نہیں بلکہ سب مسلمان کہلانے والوں کا نقصان ہے۔ہم تیس سال سے زیادہ عرصہ سے اپنی قوم کے ظلم سہتے چلے آرہے ہیں۔ہماری ہمدردی کے جواب میں ہم پر ظلم کئے گئے اور ہماری خیر خواہی کے مقابلہ میں ہم پر الزام لگائے گئے مگر جب ہم نے دیکھا کہ ملکانوں پر آریوں نے حملہ کیا ہے اور ان کو مرتد بنا رہے ہیں اور اس وقت اسلام کی حفاظت کا سوال ہے تو ہم نے نہ کسی نقصان کی پرواہ کی اور نہ ظلم و ستم کی جو ہماری قوم نے ہم پر کئے تھے اور اسلام کی حفاظت کے لئے کھڑے ہو گئے۔ملکانے ہم میں سے نہ تھے۔جس طرح آج دو تین اشخاص کے مرتد ہو جانے پر ہمارے خلاف شور مچایا جارہا اور خوشیاں منائی جارہی ہیں اس طرح کیا ملکانوں کے مرتد ہونے پر ہم مسلمانوں کے مقابلہ میں نہ کر سکتے تھے مگر ہم نے نہ کیا بلکہ سب سے بڑھ کر ملکانوں کو بچانے کی کوشش کی۔دوسرے مسلمانوں نے کئی کروڑ ہونے کے باوجود تھیں چالیس آدمیوں کو بھیجا مگر ہم نے چند لاکھ ہوتے ہوئے نواں کے قریب مبلغ ایک وقت میں ملکانوں کے علاقہ میں پھیلا دیئے۔کیونکہ ہم نے آریوں کا حملہ اسلام پر سمجھا اور اسلام کی حفاظت کے لئے کھڑا ہونا ہمارا سب سے پہلا فرض ہے۔