خطبات محمود (جلد 11) — Page 412
خطبات محمود ۴۱۲ سال ۲۱۹۲۸ ہوئے مگر ہوئے۔اور یہودی یا عیسائی ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی کیونکہ یہودی اور عیسائی وہاں تھے ہی نہیں۔اور کوئی ایک آدھ تھا تو اسے کوئی سیاسی اہمیت حاصل نہ تھی اور نہ اس کی طرف سے مسلمان ہونے والوں کو کوئی تکلیف پہنچتی تھی مگر اس وقت خدا تعالٰی نے دعا یہ سکھائی کہ مسلمان کہیں ہم یہودی اور عیسائی نہ بن جائیں۔اس کی کیا وجہ تھی؟ اس کے متعلق خدا تعالی نے میرے دل میں یہ بات ڈالی کہ عرب کے مشرک چونکہ بالکل مٹ جانے والے تھے اور ان کا نام و نشان بھی باقی نہ رہنا تھا مگر یہودیوں اور عیسائیوں نے باقی رہنا تھا اس لئے یہ دعا سکھائی گئی۔گویا مکہ میں ہی اس وقت جب مسلمان سخت تکالیف اور مشکلات میں تھے یہودیوں اور عیسائیوں کے قائم رہنے اور عرب کے بت پرستوں کے مٹ جانے کی پیش گوئی کی گئی تھی جو نہایت صفائی کے ساتھ پوری ہوئی۔غرض رسول کریم نے ان ابتدائی ایام میں جب کہ صرف چند لوگ ایمان لائے تھے تمہیں چالیس سے زیادہ نہ تھے۔عرب کے مشرکوں کی سارے ملک میں حکومت تھی۔مسلمانوں پر انہیں ہر طرح غلبہ حاصل تھا۔مسلمان ان کے ظلم و ستم کی وجہ سے گھروں سے باہر نکل کر عبادت بھی نہ کر سکتے تھے۔اس وقت آپ نے بتایا کہ یہ قوم بالکل مٹ جائے گی اور اس کی طرف سے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہ رہے گا۔اس لئے انہیں اس دعا سے خارج کر دیا گیا۔تو سورۃ فاتحہ میں ایسے مطالب بیان کئے گئے ہیں کہ اگر انسان اس پر غور کرے تو نہایت عجیب نکات معلوم ہوتے ہیں۔اس وقت میں سورۃ فاتحہ کے جس مضمون کے طرف توجہ دلانا دو سے چاہتا ہوں وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بیان کیا گیا ہے۔آج کل مسلمانوں میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کس طرح ترقی کریں اور کس طرح ذلت اور ادبار سے بچیں۔اس کے لئے مختلف تدابیر اختیار کی جارہی ہیں۔میرے نزدیک ترقی کرنے کا طریق إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں بتایا گیا ہے۔اس کے معنی عام طور پر یہ کئے جاتے ہیں کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور عبادت کا مفہوم یہ سمجھا جاتا ہے کہ نمازیں پڑھی جائیں، روزے رکھے جائیں ، حج کیا جائے، زکوۃ دی جائے اور اس کا معاوضہ یہ مانگتے ہیں کہ ہم دنیا میں ترقی کریں۔اس میں شبہ نہیں کہ عہد اور عبودیت ایک ہی مادہ سے بنتے ہیں اور بندہ اور خدا میں فرق کرنے کے لئے یہ رکھے گئے ہیں لیکن اصل عبد کے معنی ایسا بن جانے کے ہیں کہ دوسرے کے نقش اپنے اوپر لگ جائیں۔مثلاً اگر کوئی شخص چٹائی پر لیٹا ہو اور اس کے نقش اس کے جسم پر لگ جائیں۔یا