خطبات محمود (جلد 11) — Page 401
خطبات محمود ۴۰۱ سال ۶۱۹۲۸ پس اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے لوگو تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس واضح دلیل آگئی ہے۔برہان تبرین سے نکلا ہے جو چیز روشن ہو اور شبہ سے خالی ہو پس قرآن کریم کے متعلق فرمایا کہ وہ ایسی دلیل ہے ایسا کھلا ہوا نشان ہے کہ دشمن کے آگے جب اس کو پیش کیا جائے تو وہ انکار نہیں کر سکتا۔پس خدا تعالٰی نے قرآن شریف کو ایسی واضح ذلیل قرار دیا۔کہ اس کے مقابلہ میں کوئی بھی نہیں ٹھر سکتا اور ایسی روشن چیز ہے کہ اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا۔اگر قرآن واقعی ایسا ہے تو غور کرو کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں کس قدر عظیم الشان ہتھیار آگیا کہ جس کا مقابلہ دوسری قومیں نہیں کر سکتیں جب دوسری قومیں اس کا مقابلہ نہ کر سکیں تو پھر مسلمانوں کے غلبہ اور افضل ہونے میں کیا شبہ رہ گیا۔مگر افسوس کہ مسلمان جن کی کتاب نے دعوی کیا تھا کہ میں واضح دلیل اور روشن برہان ہو کر آئی ہوں وہ مسلمان کہتے ہیں کہ کسی بات کیلئے دلیل اور حجت مانگنا کفر ہے۔جب قرآن ایک بات کہتا ہے تو پھر دلیل اور حجت کیسی؟ میرے ایک عزیز وائسرائے کے لائبریرین ہیں۔وہ ایک دفعہ قادیان آئے تو میں نے ان سے مذہبی باتیں شروع کیں۔میری باتوں کے جواب میں جو کچھ انہوں نے کہا اس سے میں سمجھا کہ وہ اپنے دلائل سے ناواقف تھے کیونکہ میں نے ان کو دیکھا کہ میری تمام باتوں کی تصدیق کرتے جاتے تھے اور ہاں کرتے جاتے تھے۔گو وہ باتیں معقولیت کے لحاظ سے بھی قابل تعلیم تھیں مگر دراصل وہ جس خیال کے تھے ان کے ہم خیال مسلمان ان کو تعلیم نہ کرتے تھے۔میں نے ان سے کہا آپ ان باتوں کو صحیح سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ باتیں سب صحیح ہیں۔میں نے ان کو کہا کہ باقی مسلمان ان باتوں کو صحیح نہیں سمجھتے اس پر انہوں نے کہا کہ میں نے معقول ہونے کی وجہ سے ان کی تصدیق کی تھی۔باقی اصل بات یہ ہے کہ جب میں مدرسہ میں پڑھتا تھا تو میرا ایک استاد آریہ تھا جو اسلام پر اعتراض کیا کرتا تھا۔ہمارے محلہ کی مسجد کے امام صاحب تھے میں نے ایک دن ان کے سامنے آریہ کے اعتراضات پیش کئے اور کہا کہ آپ بتائے کہ میں ان اعتراضات کے کیا جواب دوں؟ ان کے سامنے میرا دہ باتیں پیش کرنا تھا کہ انہوں نے مجھے بے اختیار گالیاں دینی شروع کر دیں اور کہا تم بے دین کا فر ہو گئے ہو۔تم آریہ خیالات کے ہو گئے ہو۔میں تمہارے والد کو کہہ کر مدرسہ میں پڑھنے سے رکوا دوں گا۔اس وقت گو میں ابھی بچہ تھا مگر اتنی سمجھ تھی کہ اگر پڑھائی بند ہو گئی تو عمر برباد ہو جائے گی اس لئے میں نے عہد کیا کہ کبھی کوئی مذہب کے متعلق بات کسی مولوی صاحب سے نہیں