خطبات محمود (جلد 11) — Page 374
خطبات محمود سلام کے سم سال ۶۱۹۲۸ جانداد والا نہ تھا اس کی آمد تھی اسے آمد سے وصیت کا حصہ دینا چاہئے تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو ترکہ کا لفظ رکھا ہے یعنی وصیت کرنے والے کے تمام ترکہ " سے مقررہ حصہ وصیت میں لیا جائے۔پھر کیا اگر کوئی شخص صرف دھوتی اور کرتا چھوڑ مرے تو اس کو اس کا ترکہ قرار دیا جائے گا اور پھر اس کا دسواں حصہ لے کر سمجھ لیا جائے گا کہ اس نے وصیت کا حق ادا کر دیا۔پس جب کپڑوں کا ایک جوڑا بھی ترکہ کہلا سکتا ہے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے۔کہ " ہر ایک صالح جو اسکی کوئی بھی جاندار نہیں اور کوئی مالی خدمت نہیں کر سکتا۔اگر یہ ثابت ہو کہ وہ دین کے لئے اپنی زندگی وقف رکھتا تھا اور صالح تھا۔تو وہ اس قبرستان میں دفن ہو سکتا ہے۔کے اس کا کیا مطلب ہوا؟ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا منشاء جائداد نہ ہونے سے یہ تھا کہ ایسا شخص جو ننگا پھر تا ہو اسے بغیر وصیت کے دفن کیا جائے۔دنیا کے ایک کنارہ سے دوسرے کنارہ تک چلے جاؤ کوئی ایسا انسان نظر نہ آئے گا جو اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھتا ہو۔اپنے ارد گرد رسی ہی لیٹے ہوئے ہو گا یا کیلے کے پتے ہی باندھے ہوئے ہو گا وہی اسکا ترکہ اور جائیداد ہوگی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ کہنا کہ جس کی جائداد نہ ہو اس کا تقویٰ اور خدمت دین دیکھی جائے گی بے معنی کلام ہو جاتا ہے کیونکہ یہ کبھی خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ ایک شخص دین کی بڑی خدمت کرنے والا بڑا متقی ہو مگر مادر زاد ننگا رہتا ہو۔اگر اس کے پاس لنگوئی ہوگی تو وہی اس کا ترکہ ہو گا کیونکہ جو چیز انسان مرنے کے بعد قبر میں نہیں لے جاتا اور پیچھے چھوڑ جاتا ہے وہ اس کا ترکہ ہے۔پس اس طرح کوئی انسان ایسا نظر نہیں آتا جس کی کوئی جائداد نہ ہو۔کوئی اگر لنگوٹی باندھے رہتا ہو گا تو اسے بھی مرنے کے بعد کفن پہنا دیا جائے گا اور اس کی لنگوئی قبر سے باہر رہ جائے گی یا اگر اس کی پھٹی پرانی جوتی ہو گی اور وہ قبر سے باہر رہے گی تو وہی ترکہ ہو گا۔پس یہ ناممکن ہے کہ کوئی ایسا انسان ملے جس کی ترکہ کے لحاظ سے کوئی جائداد نہ ہو۔اور جب حضرت مسیح موعود نے یہ لکھا ہے کہ جس کی جائداد نہ ہو اس کے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کا اور طریق ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ جائداد نہ ہونے سے مراد آمدنی کا نہ ہوتا ہے۔یعنی جس کے گزارہ کی کوئی معین صورت نہ ہو وہ بغیر جائداد کے وصیت کر