خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 373

خطبات محمود ۳۷۳ سال ۶۱۹۲۸ مقدم کرنے والے ہوں مگر کون خیال کر سکتا ہے کہ ایک شخص جو دو تین چار سو روپیہ ماہوار کماتا ہے مگر باپ دادا سے ورثہ میں آئے ہوئے معمولی مکان کے دسویں حصہ کی وصیت کر دیتا ہے تو یہ اس کے لئے بہت بڑی قربانی ہے اور وہ ایسے مخلصوں میں شامل ہو جاتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے ہوں گے اور جن کے متعلق آئندہ نسلوں کا فرض ہو گا کہ خاص طور پر دعا کریں۔اگر ایسے آدمی کو کوئی مخلص اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا سمجھتا ہے تو وہ جھوٹا نہیں تو میں اسے بے وقوف ضرور کہوں گا اور سمجھا جائے گا کہ اس کے دماغ میں نقص پیدا ہو گیا ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو وصیت کا نظام اس لئے قائم کیا ہے کہ مخلصوں کی جماعت کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے مگر ان مخلصوں میں ایسے شخص کو شامل کیا جاتا ہے جو ہر مہینہ اپنے لباس یا کھانے یا اپنی بیوی بچوں کے لباس یا کھانے پر جتنا صرف کرتا ہے اتنا یا اس سے بھی کم چندہ دے دیتا ہے یہ کامل الایمان ہونے کی علامت نہیں ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی ایسی وصیتیں نکلی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہوار آمدنی کو چھوڑ کر معمولی مکان کی وصیت کرنے کا طریق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی منشاء کے مطابق نہ تھا۔مثلاً ایک شخص وصیت کرتا ہے جس کا معمولی مکان تھا اس نے اپنی وصیت میں لکھا۔کہ اس وقت میری کوئی جائداد نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا ملازم ہوں میری تنخواہ چار روپے ہے اس کا دسواں حصہ صدر انجمن احمدیہ کی خدمت میں ادا کرتا رہوں گا۔یا اگر آئندہ میری کوئی اور جائداد یا تنخواہ بڑھ جائے تو اس کے متعلق بھی میری یہی وصیت ہے۔اور میرا ایک مکان ریاست مالیر کوٹلہ میں ہے وہ خاص میری ملکیت ہے۔اس میں اور کسی کا کوئی حصہ اور نہ حق ہے اس کے آٹھواں حصہ کی بھی انجمن احمدیہ مالک ہے"۔چونکہ مکان آمد پیدا کرنے والا نہ تھا اس لئے اسے وصیت کے لحاظ سے جائداد نہ قرار دیا گیا۔تو وصیت کے لئے دسواں حصہ سے مراد اسی آمد کا دسواں حصہ ہے جس پر گزارہ ہو۔ایک زمیندار ہے اگر وہ اپنی زمین کا دسواں حصہ وصیت میں دے دیتا ہے تو وہ وصیت کا حق ادا کر دیتا ہے کیونکہ اس کے گزارہ کا ذریعہ زمین ہی ہے۔مگر ایک ملازم جو تین چار سو ماہوار تنخواہ پاتا ہے یا ایک تاجر جسے تجارت کی آمدنی ہے وہ اگر وصیت میں جدی مکان کا کچھ حصہ دیگر پچاس یا ساتھ یا سو روپیہ دے دیتا ہے تو وہ وصیت کے منشاء کو پورا نہیں کرتا۔وصیت کے لحاظ سے وہ