خطبات محمود (جلد 11) — Page 370
خطبات محمود ۳۷۰ سال ۱۹۲۸ء وصیت کرنا دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو پورا کرنا ہے (فرموده ۴/ مئی ۱۹۲۸ء) تشهد تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ایک سال کے قریب ہوا میں نے اپنی جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ وصیت کا معاملہ نہایت اہم معالمہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے ایسی خصوصیت بخشی ہے اور اللہ تعالٰی کے خاص الہامات کے ماتحت اسے قائم کیا ہے کہ کوئی مؤمن اس کی اہمیت اور عظمت کا انکار نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قائم کردہ سارا نظام ہی آسمانی اور خدائی اور الہامی نظام ہے مگر وصیت کا نظام ایسا نظام ہے جو خدا تعالیٰ کے خاص الہام کے ماتحت قائم کیا گیا۔باقی امور ایسے ہیں جو عام الہام کے ماتحت قائم کئے گئے ہیں مگر وصیت کا مسئلہ ایسا ہے جو خاص الہام کے ماتحت قائم کیا گیا ہے۔اور وصیت کا مسئلہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا ایک عملی ثبوت ہے۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد ایک اقرار تھا۔اس کے متعلق مؤمن کیا کرتا۔کئی لوگ تو اس اقرار کو پورا کرنے کے لئے بڑی بڑی قربانیاں کرتے اور کئی یہ اقرار کر کے خاموش ہو جاتے۔پھر کئی ایسے ہوتے جو چاہتے کہ دین کو دنیا پر مقدم کریں مگر اس کے لئے راہ نہ پاتے اور انہیں معلوم نہ ہو تا کہ کیا کریں ؟ پھر بیسیوں تھے جنہوں نے اس اقرار کو پورا کیا اور بیسیوں ایسے تھے جو حیران تھے کہ کیا کریں؟ پھر جو اقرار کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے تھے وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا اقرار پورا ہوتا ہے یا نہیں۔ان کی مثال حضرت عائشہ صدیقہ ا کی سی تھی جو کہ اپنے ایک بھانجے پر جب ناراض ہو میں تو انہوں نے قسم کھائی اور کہا میں اس سے نہ ملوں گی اور اگر ملوں تو کچھ صدقہ دوں گی اس صدقہ کی انہوں نے تعین نہ کی تھی۔آخر صحابہ کے دخل دینے اور بھانجے کی معافی مانگ لینے پر