خطبات محمود (جلد 11) — Page 31
خطبات محمود 1927ء سنوارتا ہے۔یہ چیز ہے جس کے لئے ہمیں کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ورنہ صرف اپنے آپ کو شاگرد کھنا کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔جب تک ہم اپنے اندر تبدیلی نہ پیدا کریں۔اور ایسی تبدیلی نہ کریں کہ گویا ہم پر موت وارد ہو جائے مگر بہت ہیں جو اپنی آواز کو خدا تعالیٰ کی منشاء کے خلاف بلند کرنا چاہتے ہیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی جناب میں صرف وہی لوگ قبول کئے جائیں گے۔جن کے نفس مرجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں کی آواز کو بلند کرتا ہے۔جو اس کے لئے اپنے آپ کو مار دیتے ہیں۔پس اس شخص کی آواز بلند ہوگی۔جو اپنی آواز کو خدا کی آواز میں ملا دے گا۔اور وہ ہمیشہ کے لئے مضبوط چٹان پر قائم کیا جائے گا۔اور خدا ایسی روشنائی کے ساتھ اس کا نام لکھے گا کہ اس کے بعد ا قیامت تک اس کے نام کو کوئی نہیں مٹا سکے گا۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی ہمیں اپنی راہ میں موت قبول کرنے اور اس کی حقیقت سمجھنے کی توفیق دے۔ہم ایسی موت کے لئے تیار ہو جائیں۔جس کے بعد ابدی حیات ہمیں ملے اور ہمارے اندرایسی تبدیلی پیدا ہو جس کے بعد ہم پر کوئی تباہی نہ آئے۔خدا تعالٰی وہ قرب عطاء کرے جس کے بعد ہم اس سے کبھی دور نہ ہوں اور وہ وصال عطا کرے جس کے بعد ہمارے اور اس کے درمیان کبھی جدائی نہ پڑے۔آمین لمة البداية والنهاية جلد ۷ صفحه ۵ مطبوعه بيروت الفضل ۲۲ فروری ۱۹۲۷ء)