خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 361

خطبات محمود ۴۹ سال ۱۹۲۸ء سيرة النبی کے جلسے ۱۷ جون کو ہوں گے (فرموده ۲۷/ اپریل ۱۹۲۸ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے گذشتہ سال کے سالانہ جلسہ کی تقریر میں یہ اعلان کیا تھا کہ ہمارے آئندہ سال کے پروگرام میں علاوہ اور باتوں کے یہ بات بھی شامل ہوگی کہ جماعت کے تمام افراد خواہ وہ ہندوستان میں کسی جگہ کے رہنے والے ہوں اپنی اپنی جگہ ۲۰/ جون کو ایسے جلسے کرانے کی کوشش کریں جن میں رسول کریم ﷺ کی زندگی کے ان تین پہلوؤوں پر روشنی ڈالی جائے۔اول آپ کی پاکیزہ زندگی۔دوسرے آپ کے دنیا پر احسانات اور تیرے آپ کی دنیا کے لئے قربانیاں۔جیسا کہ میں پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں اس تجویز میں یہ حکمت مد نظر ہے کہ سینکڑوں آدمی رسول کریم ﷺ کی ذات مبارک کے متعلق لیکچر دینے کی خاطر اس بات کے لئے مجبور ہوں گے کہ آپ کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں اور اس طرح ایک ہزار مبلغ ایسا پیدا ہو جائے گا جو بانی اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات پر مخالفین اسلام کی طرف سے جو اعتراضات کئے جاتے ہیں ان کا دفاع علی وجہ البصیرت کر سکے اور بتا سکے کہ رسول کریم کی زندگی ایسی ہے جو اپنی صداقت کی آپ دلیل ہے کیونکہ آنحضرت ا ان وجودوں میں سے ہیں جن کے متعلق کسی شاعر نے کہا ہے آفتاب آمد دلیل آفتاب سورج کے چڑھنے کی دلیل کیا ہے ؟ یہ کہ سورج چڑھا ہوا ہے۔کوئی پوچھے اس بات کی کیا دلیل ہے کہ سورج چڑھا ہوا ہے ؟ تو اسے کہا جائے گا دیکھ لو سورج چڑھا ہوا ہے۔تو کئی ایسے وجود ہوتے ہیں کہ ان کی ذات ہی ان کا ثبوت ہوتی ہے اور رسول کریم ﷺ کی ذات ستودہ