خطبات محمود (جلد 11) — Page 349
۳۴۹ سال ۶۱۹۳۸ ce پرندوں کے گھونسلے۔مگر ابن آدم کے لئے سردھرنے کی بھی جگہ نہیں۔رہائش کے لئے گھر تو حضرت مسیح کو بھی نصیب تھا اور وہ جھوٹا آدمی نہ تھا بلکہ خدا تعالی کا نبی تھا۔جب اس نے یہ کہا کہ ابن آدم کے لئے سر چھپانے کی جگہ نہیں تو اس کے یہ معنی نہیں تھے کہ اس کا یا اس کے حواریوں کا گھر نہیں تھا بلکہ اس کے معنی یہ تھے کہ وعظ اور لیکچر کے لئے انہیں کوئی مناسب جگہ نہیں ملتی تھی وہی حال آج ہمارا ہے۔میں نے ایک فرانسیسی مصنف کی کتاب پڑھی ہے جس نے لکھا ہے میں اسلام کا سخت مخالف تھا اور میرے دل میں سخت تعصب تھا اسی بناء پر میں نے تاریخ اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔مگر جب میں تاریخ اسلام پڑھتے پڑھتے بانی اسلام کے زمانہ میں پہنچا تو ایک نظارہ میرے سامنے آیا جس نے میرے تعصب کو پاش پاش کر دیا اور میرے نقطہ نگاہ کو بدل دیا۔اور وہ یہ تھا کہ میں اپنی قوت واہمہ کے ذریعہ ۱۳۰۰ سو سال پیچھے گیا اور میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ میلے کچیلے کپڑے پہنے ایک کچی عمارت میں بیٹھے ہیں۔ویسے ہی لباس والا ایک آدمی ان کے درمیان بیٹھا ہے۔ان کے پاس کوئی سازو سامان نہیں بلکہ ایک ایسے مکان میں بیٹھے ہیں جس پر کھجور کی شاخوں کی چھت ہے۔میں اپنی قوت واہمہ کے ذریعہ ان کے پاس پہنچا اور سنا کہ کیا باتیں کر رہے ہیں تو مجھے معلوم ہوا وہ کہہ رہے ہیں کس طرح دنیا کو فتح کریں اور کس طرح ساری دنیا پر خدا کا دین پھیلا دیں۔میں نے ان کی باتوں کو سنا اور پھر تاریخ کے دوسرے صفحات میں دیکھا کہ واقعہ میں چند سال کے بعد انہوں نے دنیا کو فتح کر لیا اور جس دین کو وہ خدا کی طرف سے سمجھتے تھے اسے پھیلا دیا۔اس وقت میرا دل ڈرا کہ ایسے لوگوں کو کس طرح کوئی جھوٹا کہہ سکتا ہے۔کیا ہی لطیف نقشہ ہے جو اس مصنف نے کھینچا ہے۔رسول کریم ﷺ کے یہی واقعات نہیں جو اس نے بیان کئے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ حیران کن ہیں۔دنیا کو فتح کرنے کی صاف پیشگوئی اس احزاب کی جنگ کے وقت کی گئی جب کہ بوجہ محاصرہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ کو کئی دن سے فاقہ تھا۔کئی صحابہ نے بتایا کہ انہیں سات سات دن سے فاقہ تھا اور انہوں نے اپنے پیٹوں پر پتھر باندھے ہوئے تھے رسول کریم ﷺ نے بھی فاقہ کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا۔یہ حالت تھی جب صحابہ خندق کھود رہے تھے۔دشمن پورے زور سے ان پر حملہ آور ہو رہا تھا اور دعوئی کر رہا تھا کہ مسلمانوں کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور لونڈیاں بنا کر لے جائے گا