خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 348

سال ۱۹۲۸ء خطبات محمود " جاتا ہے کہتے ہیں اگر اس کے کمروں کو آگے پیچھے لمبا کیا جائے تو کئی میل تک لمبی ہو جائے۔عظیم الشان عمارت کے چاروں طرف دیواروں کے ساتھ ساتھ الماریاں رکھتے گئے ہیں۔پھر جو قومیں ان تے کمزور ہیں ان کی حالت کو بھی دیکھا ہے۔میں ایک دفعہ بمبئی گیا تو خوجوں کا شادی خانہ دیکھا۔وہاں چونکہ رہائشی مکان اتنے بڑے نہیں ہوتے کہ بیاہ شادیوں میں جو مہمان آئیں وہ ٹھر سکیں اس لئے ایسے موقعوں کے لئے علیحدہ طور پر انہوں نے مکان بنایا ہوا ہے تاکہ جس کے ہاں شادی ہو وہ اپنے مہمانوں کو وہاں ٹھہرا سکے۔وہ مکان اس قدر سامان سے آراستہ تھا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی۔ایک بجلی کی روشنی کا ہی ایسا انتظام تھا کہ انسان رات کو دن سمجھتا تھا۔اس میں ہر قسم کی آرائش اور زیب و زینت کا سامان موجود تھا لیکن ان سب باتوں کے باوجود ان قوموں کے حوصلے ان کی امنگیں اور ان کے ارادے کوئی ایسے بلند نہیں ہیں۔خوجہ قوم بے شک بہت مالدار قوم ہے مگر یہ امنگ کبھی ان کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتی کہ ساری دنیا پر چھا جائیں۔بے شک میمن اور بو ہرے بہت مالدار ہیں مگر ان کے دماغ کے کسی گوشے میں بھی کبھی یہ بات نہیں آسکتی کہ ہم دنیا کے بادشاہ ہو جائیں گے اور نظام عالم میں تبدیلی پیدا کر دیں گے۔ان کی دولتیں اتنی زیادہ ہیں کہ ان میں سے کئی ایسے ہیں جو اس زمانہ میں بھی جبکہ مال و دولت کی کثرت ہے اس قدر مالدار ہیں کہ انفرادی طور پر مدینہ کو خریدنے کی طاقت رکھتے ہیں مگر ان کے دماغ کے کسی گوشے میں بھی کبھی نہ یہ خیال آیا اور نہ آسکتا ہے کہ ہم نے دنیا کو فتح کرنا ہے اور دنیا کے موجودہ نظام کو درہم برہم کر کے ایک نیا نظام جاری کرنا ہے۔مگر اس کے مقابلہ میں ایک اور قوم ہے جو اپنے مال، اپنی دولت، اپنی عزت اپنی تعداد اور اپنے اثر و رسوخ کے لحاظ سے دنیا کی شائد تمام منتظم جماعتوں سے کمزور اور تھوڑی ہے مگر باوجود اس کے اس کے دل میں یہ امنگ ہے اور اس کے ارادے اس قدر پختہ اور بلند ہیں کہ اس کا دعوئی ہے وہ تمام کمزرویوں کے باوجود اور سامان کی کمی کے باوجود ساری دنیا میں تہلکہ مچادے گی اور موجودہ نظام کو توڑ کر اور موجودہ دستور کو تہ و بالا کر کے نیا نظام اور نیا کام جاری کرے گی اور وہ احمد یہ جماعت ہے مگر اس کی حالت کیا ہے ؟ یہ کہ مجلس شورٹی کے جماعتوں کے لئے نمائندے جمع ہوئے ہیں مگر ان کے لئے اتنی بھی جگہ نہیں ہے کہ سائے میں نماز ہی ادا کر سکیں۔وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہیں کیونکہ کوئی چھت ان کے سروں کو چھپانے والی نہیں ہے اور وہ آج وہی کہہ سکتے ہیں جو حضرت مسیح نے کہا تھا کہ لومڑیوں کے لئے بھٹ ہوتے ہیں۔اور ہوا کے