خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 312 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 312

خطبات محمود سال ۶۱۹۲۸ کرنے میں جلد بازی نہ کریں پہلے میری بات تو سن لیں۔حضرت مولوی صاحب فرماتے مجھے اس پر رحم آگیا اور میں سمجھا زمینداروں کا گاؤں تھا ان لوگوں نے جبر کر کے اسے نکاح پڑھنے کے لئے مجبور کیا ہو گا مجھے اس کی بات سن لینی چاہئے۔میں نے پوچھا بتاؤ کیا ہوا کہنے لگا آپ خیال کریں جب چڑی کے برابر روپیہ نکال کر انہوں نے میرے سامنے رکھ دیا تو پھر میں کیا کرتا۔گویا ایک روپیہ سامنے آجانے کی وجہ سے اسے شریعت کے حکم کا کوئی خیال نہ رہا۔پس تجربہ کے وقت معلوم ہوتا ہے کہ کس میں کتنا ایمان ہے۔کسی کا روپیہ دینا ہو تو اس کی ادائیگی کے وقت انسان دیکھے کہ ایمانداری سے کام لے رہا ہوں یا نہیں۔کسی کے حقوق کا اس سے تعلق ہو تو دیکھے کہ حقوق ادا کر رہا ہوں یا نہیں۔یا وراثت کا سوال ہے اس وقت دیکھے کسی کا حق تو نہیں دبایا ہوا۔شادی بیاہ کا معاملہ ہے اگر ان سب باتوں کے وقت خدا کی محبت اس کے دل میں غالب رہے اور وہ کوئی ناجائز بات نہ کرے تب سمجھے کہ اسے تقویٰ حاصل ہو گیا ہے ورنہ یوں خیالی تقویٰ سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا بلکہ ایسے آدمی کی حالت بہت زیادہ خطرناک ہوتی ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے اسے تقویٰ حاصل ہے حالانکہ حاصل نہیں ہوتا اور وہ مرجاتا ہے پھر کوئی چارہ کار نہیں رہتا لیکن اگر زندگی میں اسے اپنی صحیح حالت کا پتہ لگ جاتا تو وہ اصلاح کرلیتا۔پس ہر انسان کو ہر ایک معاملہ میں ، لین دین میں لڑکی لینے یا دینے میں، تقسیم وراثت میں عزیزوں رشتہ داروں سے تعلقات میں خدا تعالیٰ کی مخلوق سے سلوک کرنے میں یہ سوچنا چاہئے کہ وہ کسی کا حق تو نہیں مار رہا۔کوئی ناجائز بات تو نہیں کر رہا۔گند تو نہیں بول رہا۔ادھر کے گاؤں میں میں نے دیکھا ہے اس قدر گالیاں دی جاتی ہیں جن کی کوئی حد نہیں۔گالیاں دینے والے احمدی نہیں بلکہ دوسرے لوگ ہیں لیکن قادیان کے ارد گرد کے دوسرے لوگ بھی پہلے کی نسبت اب بہت کم گالیاں دیتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے اثر سے اپنی اصلاح کر رہے ہیں لیکن ادھر جس گاؤں میں ہم گئے وہاں یہ نہیں کہ لڑائی جھگڑے اور غصہ کے وقت گالیاں دیتے ہوں بلکہ آپس میں محبت کی گفتگو کرتے ہوئے بھی گالیاں استعمال کرتے ہیں۔شریعت تو غصہ کی حالت میں بھی گند بولنے سے منع کرتی ہے لیکن جو شخص یونسی گند بولتا ہے معلوم ہوتا ہے اس کی اخلاقی حالت بہت ہی گر گئی ہے اسے گند کا احساس ہی نہیں رہا۔ایک شخص جو پھسل کر غلاظت میں جا پڑتا ہے وہ ایک حد تک معذور سمجھا جا سکتا ہے لیکن جو خود غلاظت کے ڈھیر پر جا بیٹھے اس کے متعلق یہی کہا جائے گا کہ اسے گندگی کا احساس ہی نہیں رہا۔