خطبات محمود (جلد 11) — Page 306
خطبات محمود ۳۰۶ سال ۶۱۹۲۸ ہیں۔گڑھے کھود کر مکان بنا لیتے ہیں۔گویا ہم زمین کا سینہ شق کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے لئے پیدا کی گئی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ ہم کس کیلئے پیدا کئے گئے ہیں بے شک خدا تعالٰی نے سب کچھ ہمارے لئے پیدا کیا پھر کیا ہم صرف کھانے پینے کیلئے پیدا کئے گئے۔اگر ہماری پیدائش کا یہی مقصد ہے تو یہ تو بیل اور گھوڑے میں بھی پایا جاتا ہے۔اگر کہو انسان دنیا میں کام کاج کرتا ہے تو گھوڑا اور بیل اس سے زیادہ کام کرتے ہیں اور بغیر مزدوری کے کرتے ہیں اس طرح وہ انسان سے اچھے رہتے ہیں کیونکہ انسان تو اپنے لئے کام کرتا ہے مگر گھوڑا اور بیل انسان کیلئے کرتے ہیں۔ان کو کہاں تنخواہ دی جاتی ہے۔اگر کہو ان کو چارہ کھلاتے ہیں تو یہ کوئی ان پر احسان نہیں انہیں کھلا چھوڑ دو تو وہ جنگل میں گھروں کی نسبت زیادہ اچھا چارہ کھالیں گے۔پس انسان جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے جب تک اسے حاصل کر کے دوسری چیزوں پر فضیلت نہ ثابت کرے اس وقت تک اسے کہنے کا حق نہیں ہے کہ سب چیزیں میرے لئے پیدا کی گئی ہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ سب چیزیں میرے لئے پیدا کی گئی ہیں وہ یہ بھی تسلیم کرتا ہے۔کہ مجھے بھی کسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ہمیں ہر وقت یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے اور اس کا کے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔خواہ کوئی انسان زمینداری کرے یا تجارت کرے یا اور کام کاج کرے وہ اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔جتنے انبیاء ہوئے ہیں وہ اپنے وقت کے بڑے بڑے عالموں میں سے نہ تھے۔اگر دین صرف پڑھے لکھے لوگوں کے لئے ہو تا تو بڑے بڑے فلاسفروں کے ذریعہ نازل ہو تا اور فلاسفر ہی مانا کرتے مگر ابتداء میں ایسے لوگوں نے کبھی نہیں مانا۔رسول کریم اللہ کے وقت حضرت ابو بکر ، حضرت عمرہ ، حضرت عثمان اور حضرت علی ان گوں کے مقابلہ میں جو بعد میں آئے اور جنہوں نے کئی کئی جلدوں میں تفسیریں لکھیں معمولی علم رکھتے تھے مگر جو نور اور معرفت ان لوگوں کو حاصل ہوئی وہ بعد میں آنے والوں کو نہ حاصل ہوئی تھی۔پس کسی کو یہ نہ خیال کرنا چاہئے کہ میں پڑھا ہوا نہیں اس لئے دین کی باتوں پر عمل نہیں کر سکتا۔زبانی سن کر اور پوچھ کر بھی عمل کیا جا سکتا ہے اور اس طرح انسان وہ کچھ حاصل کر سکتا ہے جو سالہا سال کتابیں پڑھنے سے حاصل نہیں کر سکتا۔ہماری جماعت کو اپنے بنائے جانے کے مقصد کو مد نظر رکھنا چاہئے تاکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر ان کے بیعت کرنے کا نتیجہ نکلے اور زندگی یونسی برباد نہ چلی جائے۔(الفضل ۱۷ / فروری ۱۹۲۸ء)