خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 305

خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۲۸م رستہ پر چلنے والوں کے پاس ہی بیٹھتا ہے تو وہ بھی کچھ نہ کچھ حاصل کر لیتا ہے۔پس یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ صحیح راستہ اختیار کئے بغیر کبھی کامیابی نہیں حاصل ہو سکتی۔اور کوئی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ رستہ اختیار نہ کرے جو خدا نے مقرر کیا ہے۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ صحیح رستہ پر چلنے کی کوشش کریں تاکہ ان کی محنتوں اور عبادتوں کا اچھا نتیجہ نکلے اور ان پر جو ادبار آرہا ہے وہ رو رہو۔اسی طرح ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک اس طریق پر عمل نہ کریں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا ہے اس وقت تک کامیاب نہ ہو سکیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آنے سے پہلے قرآن اور حدیث موجود تھے مگر لوگ گمراہ ہو رہے تھے۔آپ نے آکر لوگوں کو اس طرف توجہ دلائی اور وہ طریق بتایا جو صحیح ہے اس طریق پر جنہوں نے عمل کیا انہوں نے فائدہ اٹھایا اور جو محروم رہے وہ فائدہ بھی نہ اٹھا احمدی کہلانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا جب تک اس تعلیم پر عمل نہ کیا جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی ہے کیا کوئی کونین کی گولی جیب میں رکھ لے اور کہے بخار اتر جائے تو اس کا بخار اتر جائے گا۔خدا تعالٰی نے کونین کے کھانے پر بخار کا دور ہو نا رکھا ہے اگر وہ کو نین کھائے گا تب بخار اترے گا ورنہ ایک گولی چھوڑ اگر ایک پونڈ کو نین بھی جیب میں ڈال لے گا تو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔تو احمدیوں کو یہ سبق حاصل کرنا چاہئے کہ وہ اپنے اعمال احمدیت کے مطابق بنا ئیں اور اس طرح زندگی بسر کریں جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام چاہتے تھے۔اللہ تعالی نے انسان کو کسی مقصد کیلئے پیدا کیا ہے۔کوئی عقل مند انسان کبھی بے وجہ کوئی کام نہیں کرتا پھر کیا خدا نے انسان کو بلا وجہ پیدا کیا ہے۔نہیں۔انسان کے پیدا کرنے کی وجہ ہے خدا تعالی کہتا ہے ہر چیز انسان کے فائدہ کیلئے پیدا کی گئی ہے اور ہم سب چیزوں سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔کس بے دردی سے جانور کو ذبح کر کے کھا جاتے ہیں کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالٰی نے اسے ہمارے لئے پیدا کیا ہے۔خدا نے کیسی کیسی خوبصورت چیزیں بنائی ہیں مگر ہم ان کو توڑ پھوڑ کر کس طرح اپنے استعمال میں لے آتے ہیں۔یہ سبزیاں ہی دیکھو کیسی خوبصورت معلوم ہوتی ہیں لیکن ہم ان کو کاٹ کر چارہ بنا لیتے اور خود پکا کر کھا جاتے ہیں۔اسی طرح ہم جنگلوں کے درندوں کو اور آسمان کے پرندوں کو مارتے ہیں۔اسی طرح ہم زمین کھود کر نہریں نکال لیتے