خطبات محمود (جلد 11) — Page 304
خطبات محمود مسم سال ۶۱۹۲۸ پس یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ ہماری جماعت سے تعلق رکھنے والوں پر دینی اور دنیوی علوم کی راہیں کھل جاتی ہیں اور ایسی باتیں ذہن میں آنے لگتی ہیں جو بڑے بڑے عالموں کو نہیں سوجھتیں۔ہمارے ہاں ایک ملازم ہوتا تھا پہاڑ کا رہنے والا تھا اسے گنٹھیا کی بیماری ہو گئی تھی اور اس کے رشتہ داروں نے اسے گھر سے نکال دیا تھا کہ تو کماتا کچھ نہیں اس لئے ہم تیرا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔وہ اپنا علاج کرانے کے لئے چلا آیا۔کسی نے اسے بتایا قادیان کے مرزا صاحب بھی علاج کرتے ہیں وہاں جاؤ یہ سن کر وہ قادیان میں آگیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا پھر وہ آپ کے پاس ہی رہ پڑا۔اس کے رشتہ دار اسے لینے کے لئے بھی آئے مگر اس نے جانے سے انکار کر دیا۔وہ اپنی دماغی کیفیت کی وجہ سے دین سے اس قدر نا واقف تھا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول نے اس سے پوچھا تمہارا کیا مذہب ہے۔تو اس نے کہا مجھے تو پتہ نہیں ہمارے پہنچوں کو معلوم ہو گا ان کو آپ لکھیں وہ بتا دیں گے۔حضرت خلیفہ اول نے اسے نماز پڑھنے کے لئے کہا اور چونکہ بہت معمولی سمجھ کا آدمی تھا نماز کا شوق ولانے کے لئے اسے کہا اگر تم پانچ وقت کی نمازیں پڑھ لو تو دو روپے دونگا۔اس نے کہا میں نماز میں کیا پڑھوں۔آپ نے بتایا تم سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے رہنا۔وہ مغرب کی نماز کے لئے کھڑا ہوا۔تو اندر سے کسی خادمہ نے اسے آواز دی کہ کھانا لے جاؤ۔ایک دو آوازوں پر تو چپ رہا۔پھر کہنے لگا ذرا ٹھہر جاؤ نماز پڑھ لوں تو آتا ہوں۔یہ تو اس کی حالت تھی۔اس زمانہ میں احمدیت کی مخالفت ہوتی تھی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سٹیشن پر جا کر لوگوں کو قادیان جانے سے رو کا کرتے تھے۔کبھی کبھی حضرت صاحب کی تارلے کر یا کسی اور کام کے لئے وہ نوکر بھی جس کا نام پیرا تھا سٹیشن پر جایا کرتا تھا۔ایک دفعہ مولوی محمد حسین صاحب نے اسے کہا تو کیوں وہاں بیٹھا ہے یہاں چلا آ۔جب مولوی صاحب نے اسے بہت تنگ کیا تو اس نے کہا میں اور تو کچھ جانتا نہیں مگر اتنا پتہ ہے کہ مرزا صاحب یہاں سے گیارہ میل دور بیٹھے ہیں ان کے پاس تو لوگ جاتے ہیں اور تمہارے روکنے کے باوجود جاتے ہیں مگر تم یہاں روز کیلے ہی آتے ہو اور اکیلے ہی چلے جاتے ہو کوئی تو بات ہے کہ مرزا صاحب کے پاس لوگ آتے ہیں۔اب دیکھو وہ نصرت اور تائید الہی کے الفاظ نہ جانتا تھا۔مگر یہ جانتا تھا کہ حضرت مرزا صاحب کے پاس جو لوگ آتے ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب کے پاس نہیں جاتے تو اس میں کوئی خاص بات ہے۔بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالٰی کی طرف کوئی مائل ہو جاتا ہے۔یا صحیح