خطبات محمود (جلد 11) — Page 25
محمود ۲۵ سال 1927ء انسانی زندگی کا مقصد اعظم (فرموده ۱۱ فروری ۱۹۲۷ء) تشهد تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : انسان کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا مقصد اور اتنا بڑا مقصد کہ جس کا سمجھنا انسانی عقل کیلئے بہت دشوار ہے دے کر دنیا میں بھیجا ہے تاریخ میں ایک واقعہ لکھا ہے جب حضرت ابو بکر مسند خلافت پر بیٹھے تو اس وقت ان کے والد مدینہ سے باہر تھے۔کسی نے ان کو اطلاع دی کہ ابو بکر خلیفہ ہو گئے ہیں۔یہ بات ان کیلئے ایسی عجیب تھی کہ جسے وہ سمجھ نہیں سکتے تھے۔یہ خبر کہ ان کے خاندان کے ایک فرد کو تمام عرب نے اپنا حاکم تسلیم کر لیا ہے اتنی عجیب خبر تھی کہ اس کا ان کی سمجھ میں آنا بہت مشکل تھا۔ان کا ذہن اس طرف جاہی نہیں سکتا تھا۔کہ بنو ہاشم اور دوسرے عرب کے زبر دست قبائل نے ان کے بیٹے ابو بکر کی خلافت کو تسلیم کر لیا۔اور اس کی ماتحتی کا جوا اپنی گردنوں پر رکھ لیا ہے۔یہی وجہ تھی کہ انہوں نے سمجھا کہ شائد کوئی اور ابو بکر ہو گا۔اور دریافت کیا کونسا ابو بکر ؟ یہ سوال ہی بتاتا ہے کہ ان کو اس خبر کے سننے سے کس قدر تعجب ہوا ہو گا۔وہ یہ ماننے کیلئے تیار نہیں تھے کہ ان کا بیٹا ابو بکر اس مقام پر پہنچ سکتا ہے کہ اس کے آگے زبر دست قبائل عرب اور معزز خاندان اپنی گردنیں جھکا دیں۔ان کے سوال پر خبر دینے والے نے جواب دیا کہ وہی ابو بکر جو ابو قحافہ کا بیٹا ہے اور کونسا ابو بکر۔لیکن ان کے نزدیک یہ بات اس قدر عجیب تھی کہ پھر بھی ان کو یقین نہ آیا کہ ان کا بیٹا خلیفہ ہو گیا ہے انہوں نے خیال کیا کوئی اور ابو قحافہ ہو گا۔اس لئے پھر پوچھا کون ابو قحافہ ؟ خبر بتانے والے نے کہا تم ہی ابو قحافہ ہو اور کون۔اس وقت بے اختیار ان کے منہ سے نکلا۔اَشْهَدُ ان لا اله الا الله و اشهد ان محمدا رسول الله - کہ میں شہادت دیتا ہوں واقعہ میں محمد اللہ کا رسول ہے۔یہ اسی کی اطاعت اور قوت قدمی کا نتیجہ ہے کہ اس نے ابو بکر کو اتنے بڑے مقام پر پہنچا