خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 26

خطبات محمود MY سال 1927ء دیا کہ تمام عرب کی گردنیں اس کے سامنے جھک گئیں۔یہ محمد ﷺ ہی کا عظیم الشان معجزہ ہے کہ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ واقعی وہ خدا کا رسول ہے یہ رسول کا ہی کام ہے کہ ایک معمولی انسان کو اپنی قوت قدسی سے اس درجہ پر پہنچا دے کہ عرب جیسے ملک کے معزز قبائل اس کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دیں اور اس کی حکومت کو تسلیم کرلیں اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کا سمجھ میں آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔انسانی عقل بعض باتوں کو اس قدر عجیب سمجھتی ہے کہ انہیں جھٹ پٹ باور کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتی۔ان ہی باتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کے دنیا میں آنے کی غرض کیا ہے۔انسانی زندگی کا بھی اتنا بڑا مقصد ہے جسے انسان بہت عجیب خیال کرتا ہے۔اور اس کی عقل اس کو مشکل سے ہی سمجھتی ہے۔انسان کے دنیا میں آنے کا مقصد قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صرف یہی بیان فرماتا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات : ۵۷)- کہ میں نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے چنا اور اپنی عبادت اور غلامی کے لئے اسے پیدا کیا ہے اس کی پیدائش کا سوائے اس کے اور کوئی مقصد نہیں کہ وہ میری عبادت اور میری غلامی بجا لاتے ہوئے اس مقام پر پہنچ جائے کہ میرے بندوں اور میرے عباد میں شامل ہو جائے۔یہاں تک کہ میں اسے کہہ دوں فَادْخُلِي فِي عِبَادِی وَادْخُلِي جَنَّتِى الفجر : ۳۱) کہ میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا۔اب یہ مقصد اتنا عظیم الشان مقصد ہے کہ لاکھوں کروڑوں سال انسان پر گزر چکے ہیں۔مگر پھر بھی کثیر حصہ انسانوں کا اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ وہ خدا کے بندوں اور غلاموں میں شامل ہو سکتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ کہاں وہ اس مقام پر پہنچ سکتا ہے۔باوجو د بتانے کے وہ یہ باورہی نہیں کرتا کہ وہ اتنے بڑے مقام کو بھی حاصل کر سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ جیسی ہستی کے غلاموں اور خدام میں داخل ہو جائے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر عام خیالات کا جائزہ لیا جائے تو میری کثیر حصہ سے مراد اکثر وہ لوگ ہیں جو اس مقصد کے بتانے پر تعجب کریں گے کہ کیا ہم اتنے بڑے درجہ پر بھی پہنچ سکتے ہیں۔حضرت نبی کریم ﷺ کے ماننے میں یہی بہت بڑی روک ہے لوگوں کا یہی خیال تھا کہ بھلا کوئی بندہ بھی اتنا بڑا ہو سکتا ہے کہ خدا کا رسول ہو جائے۔اور خدا اس سے کلام کرنے لگے۔ان کے نزدیک یہ درجہ اس قدر تعجب انگیز تھا کہ وہ یہ تسلیم ہی کرنے کے لئے تیار نہیں تھے کہ کوئی انسان اتنا بڑا بھی ہو سکتا ہے۔کہ خدا کا اتنا مقرب ہو جائے کہ خدا اسے رسالت کے لئے منتخب کرلے۔غرض انسان کی پیدائش کا یہی مقصد ہے۔ہاں اس عظیم الشان مقصد کے حصول کے لئے جو ذمہ