خطبات محمود (جلد 11) — Page 280
خطبات محمود ۲۸۰ سال ۶۱۹۲۸ کی حوصلہ افزائی کے لئے تھی کہ تمہیں وہ کچھ ملنا ہے جو مانگنے سے بڑھ کر ہو گا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام کے متعلق ایسا ہی ہوا۔ رسول کریم اس سے بڑھ کر عرفان کس کو ہو سکتا ہے۔ اور آپ نے اپنی امت کے لئے کیا کیا دعا ئیں نہ کی ہوں گی۔ مگر باوجود اس کے خدا تعالٰی آپ کی امت سے یہ دعا کراتا ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کے مانگنے سے بڑھ کر دیا اسی طرح رسول کریم نے جو دعائیں کیں ان سے بڑھ کر دیا جائے۔ یہ کیسی جامع دعا ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی کیا مانگ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوفیا کہتے چلے آئے ہیں کہ روحانی ترقی کا گر ورود ہے۔ یہ سن کر نادان کہتے ہیں کہ محمد ا کے لئے رحمت اور برکت درود میں مانگی جاتی ہے اپنے لئے اس میں کیا ہے کہ اس کے ذریعہ روحانی ترقی ہو سکتی ہے۔ مگر د رود دراصل اپنے ہی لئے دعا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت دے کر اس دعا کی وسعت اور جامعیت کو اور زیادہ بڑھا دیا گیا ہے۔ پس ورود بهترین دعا ہے اور اس پر جتنا زور دیا جائے اتنا ہی تھوڑا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس نکتہ کو یاد رکھ کر اگر کوئی درود پڑھے گا تو اسے دعاؤں میں خاص لطف اور مزا آئے گا کیونکہ اب پڑھنے والے کے لئے اس کے الفاظ کوئی چیستاں اور معمہ نہیں بلکہ خدا تعالی تک پہنچانے کے لئے کھلا ہوا راستہ ہے۔ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ خدا اور رسول کی طرف سے جتنی باتیں سکھائی گئی ہیں ان میں بڑی حکمتیں ہیں۔ انسان اپنی اپنی نادانی سے انہیں قابل اعتراض سمجھتا ہے مگروہ مگر وہ بڑی بڑی برکتیں اپنے اندر رکھتی ہیں۔ له العنكبوت : ۲۸ کو مسند احمد بن مقبل جلد ۳۵۵۳ الفضل ۱۰-۱۳ / جنوری ۱۹۲۸ء)