خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 22

۲۲ سال 1927ء ایمان لانے والوں پر ابتلاء (فرموده ۴ فروری ۱۹۲۷ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ہر ایک چیز ہمارے لئے بہت سے فوائد اپنے اندر رکھتی ہے۔اور اس کا قانون قدرت بھی ہمارے لئے بہت سے سبق رکھتا ہے۔مثلاً بارش ہی ہے جو اللہ تعالی کے عام قوانین میں سے ایک قانون ہے۔اس سے بھی ہم بہت سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔قرآن کریم میں انبیاء کی مثال بارش سے دی گئی ہے۔اور بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ دیکھو اگر پانی آسمان سے نازل نہ ہو تو کس قدر تمہیں تکلیف ہوتی ہے۔کنویں موجود ہوتے ہیں۔مگر باوجود اس کے کام نہیں چلتے۔دریا موجود ہوتے ہیں۔نہریں موجود ہوتی ہیں۔مگر پھر بھی تکلیف ہی ہوتی ہے۔اور جب تک خدا کی طرف سے آسمانی پانی نازل نہ ہو۔تب تک ہماری ضرورت کما حقہ پوری نہیں ہو سکتی۔اسی طرح دنیا میں صداقتیں تو موجود ہوتی ہیں۔عقل بھی ہوتی ہے جو خدا کی پیدا کی ہوئی باتوں سے اچھی باتیں نکال سکتی ہے۔مگر پھر بھی یہ چیزیں اس رنگ میں مفید نہیں ہو سکتیں۔جس رنگ میں انبیاء کے آنے پر مفید ہوتی ہیں۔اب دیکھنا چاہئے۔جب باوجود دریاؤں کی موجودگی کے اور باوجود نہروں اور کنووں کے ہمیں جسمانی بارش کی ضرورت ہوتی ہے۔اور جب تک یہ بارش نہ ہو۔دنیا کو آرام و چین حاصل نہیں ہو سکتا۔اور اس کے بغیر ہماری ضرورت پوری نہیں ہو سکتی تو روحانی بارش کے بغیر کس طرح ہماری روحانی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔مگر بہت سے نادان روحانی بارش کا انکار کرتے ہوئے یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ نبی کی کیا ضرورت ہے۔مگر وہ یہ کبھی نہیں کہتے کہ کنویں موجود ہیں۔دریا موجود ہیں پھر بارش کی کیا ضرورت ہے۔پھر بارش سے نہیں اور کئی سبق مل سکتے ہیں۔مثلاً ایک یہ سبق ملتا ہے کہ جب اللہ تعالٰی کے