خطبات محمود (جلد 11)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 576

خطبات محمود (جلد 11) — Page 23

خطبات محمود ۲۳ سال 1927ء فضل نازل ہو نے والے ہوتے ہیں تو ابتلاء بھی ضرور آتے ہیں۔اور جب تک انسان ابتلاؤں کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہو۔تب تک وہ خدا کے فضلوں کا بھی امیدوار نہیں ہو سکتا۔دیکھو بارش جب آتی ہے تو اس کے ساتھ کئی تکالیف بھی ہوتی ہیں۔مثلاً بجلی چمکتی ہے۔کڑک کی وجہ سے بعض اوقات عورتوں کے حمل گر جاتے ہیں۔بارش کی وجہ سے گھروں میں بند رہنا پڑتا ہے۔کئی کام رک جاتے ہیں۔بعینہ اسی طرح جن لوگوں پر خدا تعالیٰ کے فضل کی بارش ہوتی ہے۔ان کو بھی کئی قسم کی مشکلات اور ابتلاء پیش آتے ہیں۔انبیاء کے ماننے والوں کی حرکات محدود ہو جاتی ہیں۔کئی پیشے ترک کرنے پڑتے ہیں۔کئی کام لوگوں کی مخالفت کی وجہ سے بند ہو جاتے ہیں۔وطن چھوڑنا پڑتا ہے۔بعض وقت گھروں میں محصور ہونا پڑتا ہے۔بعض دفعہ قید ہو جاتے ہیں۔مگر بعض لوگ اس حکمت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے گھبرا جاتے ہیں۔اور کہتے ہیں ہم نے ایک نبی کو مانا پھر ہم پر کیوں ابتلاء آتے ہیں۔حالانکہ سوال یہ ہونا چاہئے تھا کہ ہم نے نبی کو مانا ہے ہم پر ابتلاء کیوں نہیں آئے۔کیا کوئی یہ بھی کہا کرتا ہے کہ میں بارش کے نیچے کھڑا ہوں پھر کیوں بھیگتا ہوں۔یا سورج کی روشنی میں کھڑا ہوں کیوں اندھیرے میں نہیں۔سوال اگر ہو تو یہ ہو سکتا ہے کہ میں بارش کے نیچے ہوتے ہوئے بھیگتا کیوں نہیں۔پس انبیاء کے آنے کے ساتھ ابتلاء ضرور آتے ہیں۔اور ابتلاء بھی معمولی ابتلاء نہیں۔زلزلہ پیدا کرنے والے ابتلاء آتے ہیں۔انبیاء کے ماننے والوں کو ہر قسم کے ابتلاؤں میں ڈالا جاتا ہے۔جو ان میں سے کامیابی کے ساتھ گزرتے ہیں وہی خدا کے فضلوں کے وارث ہوتے ہیں۔نبی آتے ہی اس لئے ہیں کہ لوگوں کو پاک اور صاف کریں۔اور اس کے لئے نبی کے ماننے والوں کو مختلف حالتوں میں سے گزرنا پڑتا ہے۔مگر اس بات سے ناواقف کئی لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ جب سے ہم احمدی ہوئے ہیں تب سے ہم پر مصائب آرہے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ ابتلاؤں کے ذریعہ انہیں پاک و صاف کرنا چاہتا ہے۔پس سوال تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ مجھ پر ابتلاء کیوں نہیں آئے۔جس شخص پر ابتلاء نہ آئے اسے ڈرنا چاہئے کہ کہیں میرے ایمان میں تو نقص نہیں کہ میرا امتحان نہیں لیا گیا۔دیکھو اگر ایک شخص کچھ پڑھے گا ہی نہیں تو اس کا امتحان کیا لیا جائے گا۔اسی کا امتحان لیا جائے گا جس نے کچھ اسباق پڑھے ہوں۔اسی طرح جن کے دلوں میں ایمان ہوتا ہے۔ان پر ابتلاء بھی آتے ہیں اور ابتلاؤں کا آنا اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس نے کوئی ایمانی سبق حاصل کیا ہے۔ہاں ابتلاؤں میں استغفار بھی ضرور کرنا چاہئے۔کیونکہ بعض دفعہ انسان ابتلاؤں میں ٹھوکر کھا جاتا ہے۔ابتلاء آنے کی خواہش