خطبات محمود (جلد 11) — Page 273
خطبات محمود ۲۷۳ سال ۱۹۲۸ء اس کے لئے ضروری نہیں کہ ہماری جماعت کے ہی لوگ ہوں جو شخص بھی رسول کریم سے محبت رکھنا آپ کی عزت کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتا اور اس کام کو کار ثواب سمجھتا ہے اس سے میں خواہش کروں گا کہ اگر وہ اس کام کے لئے اپنا وقت قربان کر سکتا ہے اگر اس کام کو مفید سمجھتا اور اسے خدمت اسلام قرار دیتا ہے تو اپنا نام پیش کرے۔ہم اسے لیکچروں کی تیاری میں ہر طرح سے مدد دینے کے ئے تیار بلکہ اس کے ممنون بھی ہوں گے۔مگر میں کہتا ہوں ایسے آدمیوں کے لئے مسلمان کہلانے والوں کی بھی خصوصیت نہیں۔رسول کریم ﷺ کے احسانات سب دنیا پر ہیں اس لئے مسلمانوں کے علاوہ وہ لوگ جن کو ابھی تک یہ توفیق تو نہیں ملی کہ وہ رسول کریم ﷺ کے اس تعلق کو محسوس کر سکیں جو آپ کو خدا تعالی کے ساتھ تھا مگر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی قربانیوں سے بنی نوع انسان پر بہت احسان کئے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں۔ان کی زبانی رسول کریم کے احسانات کا ذکر زیادہ دلچسپ اور زیادہ پیارا معلوم ہوگا۔پس اگر غیر مسلموں میں سے بھی کوئی اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کریں گے تو انہیں شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائیگا اور ان کی اس خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔چونکہ رسول کریم ﷺ کے حالات زندگی لوگوں نے ایسے طریق پر لکھے ہیں جو صحیح لائف لکھنے کا طریق نہ تھا۔وہ آپ کا طیہ اور معجزات لکھتے رہے جو زمانہ گزر جانے کے بعد قصے رہ گئے اور اب صحیح حالات بیان کرنے کے لئے تیاری اور محنت کی ضرورت ہے اس لئے جس قدر جلد ہو سکے نام پیش کر دیئے جائیں تاکہ تیاری شروع کرا دی جائے۔دوسری بات یہ ہے کہ میں نے اعلان کیا تھا اس سال دس پاروں کا درس گیارہویں پارہ سے لیکر بیسویں تک جولائی کے مہینہ میں دوں گا۔پہلے دیں پاروں کا درس ۱۹۲۲ ء میں ہو چکا ہے۔اس کے متعلق میں نے یہ اعلان کیا تھا کہ اگر پچاس آدمی باہر سے درس میں شامل ہونے کے لئے اپنے نام پیش کریں تو میں درس دینے کے متعلق اعلان کر دوں گا۔چار پانچ کی طرف سے تو درخواستیں آبھی چکی ہیں لیکن کم از کم پچاس کی ضرورت ہے جو باہر کے ہوں۔اگر اتنے آدمی ہو گئے تو خدا کے فضل سے توفیق ملنے ، صحت کے اچھے ہونے اور موافق حالات کے پیدا ہونے پر درس دینے کا اعلان کر دوں گا اس کے لئے بھی دوستوں کی جلد درخواستیں آجانی