خطبات محمود (جلد 11) — Page 272
خطبات محمود ۲۷۲ سال ۱۹۲۸ء جب کوئی حملہ کرتا ہے تو یہی سمجھ کر کہ دفاع کرنے والا کوئی نہ ہو گا۔واقف کے سامنے اس لئے کوئی حملہ نہیں کرتا کہ وہ دفاع کر دے گا۔پس سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو رسول کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی سے واقف کرنا ہمارا فرض ہے۔اور اس کے لئے بہترین طریقہ یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اہم شعبوں کو لے لیا جائے اور ہر سال خاص انتظام کے ماتحت سارے ہندوستان میں ایک ہی دن ان پر روشنی ڈالی جائے تاکہ سارے ملک میں شور پیچ جائے اور غافل لوگ بیدار ہو جائیں۔اس غرض کے لئے میں نے جماعت کے دوستوں کو توجہ دلائی تھی کہ کم از کم ایک ہزار آدمی ایسا ہونا چاہئے جو ان مضامین پر لیکچر دینے کے لئے تیاری کر سکے تاکہ ۲۰/ جون کو جلسہ کر کے لیکچر دئیے جائیں اور میں نے خواہش کی تھی کہ دوست جنوری کے اندر اندر اس بات کی اطلاع دیں تاکہ ابھی سے ان کو مضامین کی تیاری کے لئے ہدایات دی جاسکیں اور لیکچروں کے لئے تیار کیا جاسکے۔ان لیکچروں سے جو نتیجہ نکلے گا اسے اگر الگ رہنے دیا جائے تو ایک ہزار آدمی کو اس بات کے لئے تیار کر لینا کہ وہ رسول کریم ﷺ کی سیرت کے اہم پہلوؤں پر عمدگی سے لیکچر دے سکیں یہی بہت بڑا اور غیر معمولی کام ہے اور اگر ہم صرف یہی کر سکیں کہ ایک ہزار آدمی ایسا تیار کرلیں تو یہی بہت بڑی دین کی خدمت ہوگی۔اور اس طرح ہم اگلے سال دو ہزار پھر تین ہزار پھر چار ہزار ایسے لوگ تیار کرنے کے قابل ہو جائیں گے جو رسول کریم ﷺ کی زندگی پر نہایت قابلیت سے لیکچر دے سکیں گے۔ایک ہزار آدمی جو ایسے تیار ہوں گے ان میں سے ہر ایک کا لیکچر سننے والے ایک ایک ہزار آدمی بھی سمجھے جائیں گو کئی مقامات پر دس بارہ ہزار تک بھی جمع ہو سکتے ہیں تو دس لاکھ آدمیوں کو سنا سکتے ہیں۔اور وہ آگے اگر دس دس آدمیوں سے لیکچر کی باتیں کریں تو ایک کروڑ تک وہ باتیں پہنچ سکتی ہیں۔اور چند سال کے اندر ہندوستان میں کوئی بشر ایسا نہیں رہ سکتا جس کے کانوں تک رسول کریم ﷺ کی پاک زندگی کے صحیح حالات نہ پہنچ چکے ہوں۔یہ ایسا شاندار اور عظیم الشان کام ہے جس کا خیال ہی کر کے طبیعت میں جوش اور روح میں لذت پیدا ہوتی ہے۔پس جو دوست یہ کام کرنا چاہیں وہ جنوری کے اندر اندر اپنے ارادہ سے مجھے اطلاع دیں تاکہ ضروری ہدایات ان کو دی جاسکیں۔چونکہ ممکن ہے جلسہ کے شور و شعب کی وجہ سے احباب اس بات کو بھول گئے ہوں اس لئے خطبہ کے ذریعہ پھر اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔