خطبات محمود (جلد 11) — Page 21
خطبات محمود ۲۱ سال 1927ء پھر ہاتھوں پر پھونک کر جسم پر ہاتھ پھیرتے ۔ یہ ذکر اپنے اندر بہت بڑے فوائد رکھتا ہے۔ اور جو لوگ اس کے کرنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ان آیات اور سورتوں کے اندر ایسے مضامین اور دعائیں ہیں جو او رکسی مذہب میں نہیں۔ ان کو مسنون طریق پر پڑھنے والا و سادس اور بیماریوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ میں جماعت کو روحانی حالت کی طرف متوجہ کرنے کیلئے اس نکتہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ پہلے بھی کئی دفعہ اس طرف توجہ دلا چکا ہوں۔ میں نے خود اس کا تجربہ کیا ہے۔ جب میری بیوی فوت ہو گئی۔ تو میرا بچہ خلیل احمد نہایت کمزور تھا۔ ہر روز ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ اس کا آخری دن ہے۔ اس وقت میں روزانہ یہ سورتیں پڑھ کر اس پر پھونکتا۔ اور اگر کسی دن کسی وجہ سے نہ پھونکتا تو بیمار ہو جاتا۔ اب وہ اپنی نانی کے پاس رہتا ہے جب ناغہ ہوتا ہے وہ بیمار ہو جاتا ہے تو اس کی نانی میرے پاس لے آتی ہے کہ میں یہ دعائیں پڑھ کر اس پر دم کروں۔ غرض اس ذکر میں بہت سے فوائد ہے کہ یہ ہیں۔ ان سورتوں کو پڑھتے وقت خدا سے التجا کرو کہ وہ برکتیں جو ان میں رکھی گئی ہیں تم پر نازل کرے یہ سورتیں جادو یا ٹونہ نہیں ہیں۔ قرآن کریم میں جادو ٹونے نہیں۔ یہ دعا ئیں ہیں۔ اور رسول کریم اللہ کی مسنون دعائیں ہیں۔ اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس سنت کو اختیار کرے۔ یعنی روزانہ سوتے وقت یہ دعائیں پڑھ کر سوئے ایک تو اس سے ذکر الہی کی عادت پڑ جائے گی۔ دوسرے خیالات کے اندر نیکی کی رو پیدا ہو جاتی ہے۔ اس طرح نیند میں بھی انسان کی نیکیاں شمار ہوں گی۔ (الفضل ۸/ فروری ۱۹۲۷ء) ا سیده امتہ الحی بنت حضرت خلیفتہ المسیح الاول مولانا نور الدین صاحب